ماں کی بے خوابی کے اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں، ماہرین

پیر مئی 12:50

لندن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) برطانوی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ جو مائیں بے خوابی کا شکار ہوتی ہیں ان کے بچوں کی نیند نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما اور دماغی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔یونیورسٹی آف واروک کے ماہرین نے بے خوابی کی شکار ماؤں اور ان کی7 سے 12 سال بچوں کے درمیان اس کا تعلق دریافت کرنے کے لئے مطالعے میں 200 سے زائد صحت مند بچوں اور ان کے والدین کا جائزہ لیا ۔

مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ بچوں کے سونے کے مسئلے کو خاندانی نظام کے تحت دیکھنا چاہیے۔ اس عمل میں نیند کے دوران الیکٹرو اینسیفیلو گرافی (ای ای جی) کے ذریعے ایک رات بچوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کے گھروں میں جا کر ان کے دماغ پر الیکٹروڈ لگائے گئے۔ دوسری جانب بچوں کے والدین سے ان کی اپنی نیند کی کیفیات اور بچوں میں نیند کے مسائل سے سوالات کئے گئے۔

(جاری ہے)

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن بچوں کی مائیں بے خوابی یا کچی نیند کی شکار تھیں ان کے بچے بھی کم وقت کے لیے گہری پرسکون نیند میں گئے جو بچوں کی ای ای جی سے ظاہر تھیں۔ اس پورے عمل میں باپ کی نیند میں کمی بیشی کا بچوں پر کم اثر دیکھا گیاجبکہ زیادہ وقت ماں کے پاس گزارنے والوں پر نیند کی کمی کے اثرات نمایاں دیکھے گئے۔ سوالات کے جوابات میں جب ماں اور باپ نے اپنی نیند کے معیار کی خرابی بیان کی تو انہوں نے خود یہ اعتراف بھی کیا کہ ان کے بچے درست انداز میں نہیں سو سکے یا دیر سے سوتے ہیں۔

اچھی صحت کے لیے پرسکون اور گہری نیند بہت ضروری ہے جبکہ خراب اور ناکافی نیند دماغی کمزوری، یادداشت کو متاثر کرنے اور دماغی و نفسیاتی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے اس تحقیق کو سراہتے ہوئے والدین سے کہا ہے کہ بچے اپنی ماں سے ان دیکھی ڈور سے جڑے ہوتے ہیں اور یوں ماں کی بے خوابی ان پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

متعلقہ عنوان :