حکومت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ماحولیات کے شعبوں کی ترقی کے لئے بھرپور اقدامات کررہی ہے، وژن 2025 کے تحت پلاننگ کمیشن کی مربوط منصوبہ بندی کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن

پیر مئی 13:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ حکومت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ماحولیات کے شعبوں کی ترقی کے لئے بھرپور اقدامات کررہی ہے، وژن 2025 کے تحت پلاننگ کمیشن نے ان شعبوں کے لئے ایک مربوط منصوبہ بندی کی ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔

اجلاس میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 6 منصوبے پیش کیے گئے ہیں جن میں پہلا منصوبہ کوئٹہ میں نسٹ کیمپس کی تعمیر کے لئے 2 ارب 62کروڑ 28لاکھ 66 روپے، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہاسٹل کی تعمیر اور کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے 31 کروڑ 63 لاکھ 90ہزار روپے، پشاور یونیورسٹی کی اپ گریڈیشن کے لئے 74 کروڑ 8لاکھ روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان اور مختلف ممالک کے درمیان تعلیم و تحقیق کے روابط کو بڑھانے کے لیے دو طرفہ معاہدے کا منصوبہ پیش کیا جس کی کل لاگت 46 کروڑ 72 لاکھ 12ہزار روپے اور گلگت بلتستان میں خلائی تحقیقاتی سنٹر کی تعمیر کے لئے 66 کروڑ 56 لاکھ 19 ہزار روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا، اجلاس نے ان تمام منصوبوں کو منظور کر لیا ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ماحولیات کے تین منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ پاکستان میٹروجیکل ڈیپارٹمنٹ میں ماحولیاتی آفات سے بچاو کے لیے بہتر سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کی کل لاگت 12 ارب 94 کروڑ 2 لاکھ روپے مختص کئے گئے جس کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک بھجوا دیا گیا ، پورے ملک میں آفات سے بچائو کے لئے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ ( ڈی آر ایم ) سروس منصوبے کے لئے 10 ارب 17کروڑ 61 لاکھ 20 ہزار روپے کی لاگت کا پیش کیا گیا جس کو اجلاس نے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا۔ اجلاس میں ملتان میں موسمی ریڈار کی تنصیب کے لئے ایک ارب 84 کروڑ 86 لاکھ 50 ہزار روپے کا منصوبہ پیش کیا جس کو اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔