ملک کے لیے اصل سیکیورٹی رسک کون ہے ؟

پوری قوم فوجی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ جنرل اسد درانی کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے،معروف صحافی حامد میر کا خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہوں کی کتاب پر تبصرہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر مئی 13:43

ملک کے لیے اصل سیکیورٹی رسک کون ہے ؟
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔28 مئی 2018ء) معروف صحافی حامد میر کا خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہوں کی لکھی گئی مشترکہ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں کہنا تھا کہ پوری قوم فوجی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ جنرل اسد درانی کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اے ایس دولت کی کتاب ’’دی اسپائی کرانیکلز‘‘میں کئی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔

اور یہ کتاب اب میڈیا میں خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔اسی متعلق معروف کالم نگار حامد میر کا اپنے ایک کالم ’سیکورٹی رسک کون ‘؟ میں لکھنا ہے کہ جنرل اسد درانی نے کچھ معاملات پر سنی سنائی باتوں کو انکشاف کے رنگ میں پیش کر دیا۔ اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے بارے میں اُن کا موقف الجزیرہ اور بی بی سی پر آ چکا ہے۔

(جاری ہے)

اُن کا موقف پاکستان کے ریاستی موقف سے مختلف تھا لیکن اُن سے کوئی جواب طلبی نہ ہوئی لہٰذا انہوں نے یہی موقف اے ایس دولت کے ساتھ مشترکہ کتاب میں بھی شامل کر دیا۔

حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ جنرل اسد درانی نے سنی سنائی باتیں اپنی کتاب میں لکھی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کا آپس میں ملنا جلنا اور مشترکہ کتاب لکھنا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ اعتراض کی بات یہ ہے کہ سستی شہرت کے لئے جنرل اسد درانی صاحب نے ایسے واقعات پر سنی سنائی باتوں کو انکشاف کا رنگ دیدیا جو اُن کی فوجی ملازمت کے بعد رونما ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حریت کانفرنس پاکستان نے بنوائی۔ درانی صاحب 1991ء میں آئی ایس آئی سے فارغ ہو گئے تھے جب کہ حریت کانفرنس 1993ء میں بنی تھی۔تاہم ان تمام باتوں کے بعد اب جنرل اسد درانی کو جی ایچ کیو میں طلب کر لیا گیا ہے لیکن کیا انہیں وارننگ دے کر چھوڑ دیا جائے گا ؟۔اسد درانی صرف آئی ایس آئی نہیں بلکہ ملٹری ایجنسی کے بھی سربراہ رہے ہیں۔جنرل اسد درانی کی طرف سے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔اس وقت پوری قوم فوجی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ جنرل اسد درانی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔اور یہ دیکھنا ہو گا کہ جس ملک میں صحافیوں اور سیاستدانوں کو اصل سیکورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے اس ملک میں جنرل اسد درانی کے خلاف کی کاروائی ہو سکتی ہے؟۔