اماراتی درہم اور سعودی ریال کی قیمت میں یکدم کئی روپے اضافے کا امکان

پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث اماراتی درہم کی قیمت 38 پاکستانی روپے ہونے کا امکان

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 13:51

اماراتی درہم اور سعودی ریال کی قیمت میں یکدم کئی روپے اضافے کا امکان
متحدہ عرب امارات (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 28 مئی 2018ء) : صنعتی تجزیہ کاروں اور افسران کے مطابق پاکستانی کرنسی کی قدر میں دن بدن بتدریج کمی آنے کے باعث آئندہ چند ماہ میں ایک درہم کی قیمت 38 روپے ہونے کا امکان ہے، جو کہ تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ اورینٹ ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راجیو ریپنچولیا کا کہنا ہے کہ 19-2018ء کے مالی سال میں روپے کی قدر میں مزید 10 سے 15 فیصد کمی کا امکان ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں موجود بنکوں نے آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض کی قسط کی ادائیگی کے لیے چینی قرض خواہوں سے امریکی ڈالرز اُدھار لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ایشیائی ممالک کی طرف وفاقی سود کی شرح میں اضافہ ملک میں ڈالر کے استعمال پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ سود کی شرح میں اضافہ اور افراط زر پاکستان کی معیشت پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اسی لیے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ 2020ء تک ایک امریکی ڈالر کی قیمت 140 روپے جبکہ ایک درہم کی قیمت 38.16 روپے ہو جائے گی۔ جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات کے ایک درہم کی قیمت 31.47 پاکستانی روپے تھی۔

جنوری 2018ء میں سود کی شرح میں 25 نکاتی پوائنٹ کے بعد اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے جمعہ کے روز قرضے کی شرح کو 50 بنیادی نکات کے تحت 6.50 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ گذشتہ برس مئی 2017ء میں 16.4 بلین کے غیر ملکی ذخائر گذشتہ ہفتے 10.3 بلین ڈالر تک گر گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ادائیگی کے بحران پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے چین سے ایک سے دو بلین ڈالر کا قرض لیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کے مطابق 2019ء تک امریکی ڈالر کی قیمت 125 پاکستانی روپے یا متحدہ عرب امارات کے ایک درہم کی قیمت 34.1 پاکستانی روپے تک پہنچ جائے گی۔ جبکہ سعودی ریال کی قیمت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ درآمدات کی طلب کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے روپے کی قدر میں مزید کمی کی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں دو مرتبہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، گذشتہ چار ماہ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی،جس کے بعد اب ڈالر کی قیمت 115.5 جبکہ درہم کی قیمت 31.50 ہے۔

واضح رہےکہ گذشتہ دس سالوں میں گرین بنک کے مقابلے میں روپے کی قدر میں سالانہ 5 فیصد کمی آئی۔