ایون فیلڈ ،ْکبھی بھی لندن فلیٹس کی مالک نہیں رہی نہ ہی نیلسن اور نیسکول کی بینیفشل آنر ہیں ،ْ مریم نواز

پیر مئی 14:32

ایون فیلڈ ،ْکبھی بھی لندن فلیٹس کی مالک نہیں رہی نہ ہی نیلسن اور نیسکول ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں زیرسماعت ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان قلمبند کراتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی لندن فلیٹس کی مالک نہیں رہی اور نہ وہ نیلسن اور نیسکول کی بینیفیشل آنر ہیں۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی ۔اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے مسلسل تیسری سماعت پر اپنا بیان قلمبند کروایا ۔۔سماعت کے دوران مریم نواز نے بیان قلمبند کرانے کے دوران کہا کہ موزیک فونسیکا کا 22 جون 2012 کا خط پرائمری دستاویز نہیں ،ْ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا پیش کیا گیا 3 جولائی 2017 کا خط بھی بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا کیوں کہ پرائیویٹ فرم کے خط میں کوئی حقیقت نہیں۔

(جاری ہے)

مریم نواز نے کہا کہ یہ خط براہ راست جے آئی ٹی کو بھیجا گیا جو کہ قانون کے مطابق نہیں، خط میں درج دستاویزات پیش نہیں کی گئیں اور جس طرح یہ خط پیش کیا گیا اس کی ساکھ پر سنجیدہ شکوک پیدا ہوتے ہیں۔۔مریم نواز نے اعتراض اٹھایا کہ خط لکھنے والے کو پیش کیے بغیر مجھے میری جرح کے حق سے محروم کیا گیا تاکہ میں خط کے متن کی تصدیق نہ کر سکوں اور جرح کا موقع نہ دے کر شفاف ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مریم اپنے دفاع میں بطور گواہ بلانا چاہیں تو بلالیں جس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ یہ دیکھنا پڑے گا کہ غیر ملکی گواہ کو بلایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔۔مریم نواز نے کہا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کی دستاویز میرے متعلق نہیں، یہ دستاویزات مذموم مقاصد کے تحت پیش کی گئیں جبکہ استغاثہ کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات قابل قبول شہادت نہیں، فرد جرم کے مطابق یہ مکمل طور پر غیر متعلقہ دستاویزات ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ خط پر انحصار شفاف ٹرائل کے خلاف ہوگا ،ْاس خط کے متن سے ہمیشہ انکار کیا ہے، میں کبھی بھی لندن فلیٹس یا ان کمپنیوں کی بینیفشل مالک نہیں رہی، ان کمپنیوں سے کبھی کوئی مالی فائدہ لیا نہ کوئی اور نفع۔گلف اسٹیل مل کے 25 فیصد شئیرز، التوفیق کیس کا سمجھوتہ اور 12 ملین کی سیٹلمنٹ پر کیا کہتی ہیں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میں اس معاملے میں کبھی شامل نہیں رہی، گلف اسٹیل ملزکے 25 فیصد شئیرز فروخت کا حصہ نہیں رہی اور 1980 کے معاہدے سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس سے قبل 25 مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر مریم نواز نے کہا تھا کہ لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں اور نیلسن اور نیسکول کمپنی کے بینیفشل مالک بھی حسین نواز تھے، ان دونوں کمپنیوں کا ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے ٹرسٹی بنایا گیا۔یاد رہے کہ ریفرنس میں نامزد ملزم نواز شریف احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات کے جواب دے چکے ہیں، مریم نواز کے بعد ان کے خاوند کیپٹن محمد صفدر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔