جتنا مذاق طیارہ ہائی جیک کیس تھا اتنا ہی مضحکہ خیز موجودہ مقدمہ ہے ،ْنواز شریف

پیر مئی 14:32

جتنا مذاق طیارہ ہائی جیک کیس تھا اتنا ہی مضحکہ خیز موجودہ مقدمہ ہے ،ْنواز ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ،ْ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جتنا مذاق طیارہ ہائی جیک کیس تھا اتنا ہی مضحکہ خیز موجودہ مقدمہ ہے ،ْ1999 میں نکالے جانے کی وجوہات یہی تھیں اور آج بھی یہی ہیں ،ْمیرے بیانیے اور مؤقف کی ہی جیت ہوگی ،ْ فتح کے علاوہ دوسری کوئی منزل نہیں ہے ،ْد عمران خان بتائیں آج تک کون سا منصوبہ مکمل کیا ہی ہمیں کام کیلئے صرف ڈیڑھ دو سال ملے، اگر پورے 5 سال ملتے تو اور کام کرتے ،ْتحریک انصاف کے سینیٹر کے بھائی کو آپ وزیراعلیٰ بنا رہے ہیں ،ْیہ تو بلی سے دودھ کی رکھوالی کرانے والی بات ہے ،ْمیڈیا پر دباؤ ڈالنا قبل ازوقت دھاندلی کے مترادف ہے۔

پیر کو احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میرے اٹک قلعہ میں طیارہ ہائی جیک اور اس کیس میں مؤقف ایک ہی ہے، 1999 میں نکالے جانے کی وجوہات یہی تھیں اور آج بھی یہی ہیں۔

(جاری ہے)

سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ہائی جیکنگ پر سزا سنائی گئی، وہ ایسا ہی ہے جیسے آج تنخواہ پر فارغ کیا گیا، قوم طیارہ ہائی جیک کیس کو مانتی ہے اور نہ ہی موجودہ کیس کو، 70سال گزر گئے لیکن کچھ عرصہ اور لگے گا، میرے بیانیے اور مؤقف کی ہی جیت ہوگی اور فتح کے علاوہ دوسری کوئی منزل نہیں ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جس نے کام کیا، دوسری جماعتوں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، وہ اپنے کسی منصوبے کا بتائیں اور خود عمران خان بتائیں آج تک کون سا منصوبہ مکمل کیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ کارکردگی مرکز کی ہی ہے جس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ،ْسی پیک لائے، بڑے بڑے موٹر ویز بنائے، مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں کہ ڈی آئی خان میں کتنی تیزی سے موٹر وے بن رہی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان اور کراچی کا امن ہم نے ٹھیک کیا، بھتا خوری کی وارداتیں ختم ہوئیں جبکہ رمضان المبارک میں 22،22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی لیکن آج 45 اور 47 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی بجلی دے رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نے شکوہ کیا کہ ہمیں وقت ہی کتنا ملا، 2014 کے دھرنے کے بعد 2016 تک کام کیا اور پھر پاناما شروع ہوگیا، ہمیں کام کیلئے صرف ڈیڑھ دو سال ملے، اگر پورے 5 سال ملتے تو اور کام کرتے۔

نگراں وزیراعظم سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے لئے ہم نے اچھے نام دئیے ،ْ ہم ایسا نام نہیں دے سکتے جسے عوام قبول نہ کرے، نگراں وزیراعظم ایسا ہو جسے قوم بھی کہے اچھا نام ہے۔۔خیبرپختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے منظور آفریدی کا نام سامنے آنے سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کے سینیٹر کے بھائی کو آپ وزیراعلیٰ بنا رہے ہیں ،ْیہ تو بلی سے دودھ کی رکھوالی کرانے اور اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنے کو، جیسا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں برطانوی نشریاتی ادارے کا آرٹیکل بھی پڑھ کر سنایا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے پارٹی میں مشاورت کریں گے ،ْپارٹی کی 5 سالہ کارکردگی کو پیش کرنے سے روکنا غیر منصفانہ ہے۔انہوںنے کہاکہ پارٹی کی جانب سے ضابطہ اخلاق پر رسمی طور پر تحفظات کا اظہار کرے گی، تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں سیاسی جماعتوں کو 5 سالہ کارکردگی پیش کرنے سے روکنا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو نشانہ بنانا ہے۔انہوںنے کہاکہ میڈیا پر دباؤ ڈالنا قبل ازوقت دھاندلی کے مترادف ہے۔