مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل جنگ کی وجہ سے معذور ہونے والے افراد موت سے بد تر زندگی گزارنے پر مجبور

گزشتہ 29سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری زندگی بھر کے لیے معذور ہوچکے ہیں

پیر مئی 15:04

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں مسلسل جنگ کی وجہ سے معذور ہونے والے افراد کٹھ پتلی انتظامیہ کی بے حسی کے باعث موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 29سال سے مسلسل جنگ کی وجہ سے اب تک ایک لاکھ کے قریب افراد شہید اورلاکھوں زخمی ہوچکے ہیں جن میںسے ایک لاکھ سے زائد زندگی بھر کے لیے معذور ہوچکے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والااشتیاق احمد شاہ بی ایس سی کا طالب علم تھا جب بھارتی پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس اور مقامی فوجی کیمپ کے اہلکاروںنے 1996ء میں انہیں ان کے انکل کے گھر میں پکڑکر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی ٹانگ میں گولی ماری ، جس سے اس کی دائیں ٹانگ بے کار ہوگئی۔

(جاری ہے)

وہ کہہ رہے ہیں کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے انہیں 25ہزار روپے معاوضہ دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جائز معاوضے کے لیے ان کا کیس گزشتہ بیس سال سے عدالت میں زیر التوا ہے۔ اشتیاق کا کہنا ہے کہ سب غیر سرکاری تنظیمیں فراڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسی غیر سرکاری تنظیم نے ان کی مدد نہیں کی۔ ان کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ اپنی تعلیم بھی جاری نہیں رکھ سکا۔ 37سالہ پرویز احمد ڈار 1991ء میں سرینگر کے علاقے مائسمہ میں ایک گرینیڈ دھماکے میں اپنی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہواہے۔

پرویز کاجو اس وقت 10کا تھا کہنا ہے کہ اس سے بہتر یہ ہوتا کہ میں اس دھماکے میں مرجاتاکیونکہ معذورافرادکے حوالے سے کٹھ پتلی انتظامیہ کی بے حسی نے انہیں مایوس کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے انہیں کٹھ پتلی انتظامیہ یا کسی فلاحی تنظیم سے ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں ملا۔ ان کا کہنا کہ اس کے برعکس جب معذور افراد اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو کٹھ پتلی حکمران ہمارے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہیں۔