24 سیاست دانوں کا پارٹیاں بدلنے میں کوئی ثانی نہیں

باغی کے نام سے معروف جاوید ہاشمی پارٹیاں بدلنے کی ڈبل ہیٹرک مکمل کر چکے ہیں، غلام مصطفی کھر بھی ڈبل ہیٹرک مکمل کرنے کے قریب ہیں،قومی اخبار کی ایک رپورٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر مئی 15:16

24 سیاست دانوں کا پارٹیاں بدلنے میں کوئی ثانی نہیں
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار 28مئی 2018ء) 24 سیاست دانوں کا پارٹیاں بدلنے میں کوئی ثانی نہیں۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سیاسی رنگ ڈھنگ نرالے ہیں۔بیشتر سیاست دان اپنے مفاد کے لیے سیاست کرتے ہیں۔اور اس کو ملکی مفاد کا نام دیتے ہیں۔دو درجن کے قریب ایسے معروف سیاست دان اور لیڈر ہیں جنہوں نے پارٹیاں بدلنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں چھوڑا۔

ان میں بیشتر تو ہیٹرک کے قریب ہیں۔معروف سیاست دان اور باغی کے نام سے مشہور جاوید ہاشمی بھی ڈبل ہیٹرک مکمل کر چکے ہیں۔اس طرح سابق گورنر و وزیر اعلی پنجاب غلام مصطفی کھر بھی ڈبل ہیٹرک کے قریب ہیں۔۔بلوچستان کی بااثر شخصیت اور محترمہ فاطمہ جناح کے باڈی گاڑد ظفر اللہ خان جمالی بھی زیادہ پارٹیاں بدلنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔

(جاری ہے)

وہ قائداعظم کے ساتھیوں میں سے رہے۔

فیصل حیات صالح نے اپنی جوانی میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔اور بڑے اچھے سیاست دان کے طور پر سامنے آئے۔بعد ازاں وہ پرویز مشرف کی پارٹی میں چلے گئے۔اور وزیر داخلہ بھی رہے۔جس کے بعد وہ پرویز مشرف اور ق لیگ سے ناراض ہو گئے اور دوبارہ پیپلز پارٹی جوائن کر لی۔۔پاکستان تحریک انصاف کے نا اہل رہنما جہانگیر ترین کا بھی پارٹیاں بدلنے میں کوئی ثانی نہیں ہے۔

جہانگیر ترین نے اپنی سیاست کا آغاز مسلم لیگ ن سے کیا۔۔میاں شہباز شریف کے مشیر بھی رہے۔۔شاہ محمود قریشی ن لیگ سے کچھ دیر وابستگی کے بعد پیپلز پارٹی میں چکے گئے تھے۔۔زرداری دور میں وہ وزیر خارجہ بھی بنے اور ۔مشرف دور میں ملتان کےضلعی ناظم رہے۔بعد ازاں تحریک انصاف می شمولیت اختیار کر لی۔سابق وزیر اعلی پنجاب میاں منظور ووٹو پاکستان مسلم لیگ ن میں آئے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی بھی بنے۔بغاوت کر کے آزاد گروپ بنایا۔اور وزیر اعلی پنجاب بن گئے۔بعد میں ق لیگ میں چلے گئے پھر مسلم لیگ وٹو گروپ بنا لیا۔۔پیپلز پارٹی میں بھی آئے ۔عوامی سیاست دان کہلانے والے شیخ رشید بھی پارٹیاں بدلنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ہر دور میں پارٹی بدلی اور وفاقی وزیر بھی رہے۔سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ پہلے پیپلز پارٹی کے ساتھ رہے۔

مشرف دور میں وزیر داخلہ رہے۔۔پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ بنا لیا۔۔مشاہد حسین سید بھی ایسے سیاست دان ہیں جو پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔۔بابر اعوان نے بھی قانون دان ہونےکے باجود پارٹیاں بدلیں۔رانا نذیر آف کامونکے نے بھی ہر دور میں پارٹی بدلی۔بصر اللہ درشیک،فواد چوہدری،کے پی کے کے وزیر اعلی پریوز خٹک،راجہ ریاض،،اشرف سوہنا،امتیازصفدر وڑائچ،قیصر احمد شیخ،طاہر بشیر چیمہ اور جعفر لغاری سمیت بلوچستان کے بیشتر سیاستدانوں نے ایک سے زائد پارٹیاں بدلی ہیں۔