فیض آباد دھرنے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

وزارت دفاع کی رپورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق اہم انکشافات

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر مئی 15:35

فیض آباد دھرنے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 28 مئی 2018ء) : فیض آباد دھرنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں اور افواہیں پھیلائی گئیں کہ فیض آباد دھرنے میں فوج یا آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا تاہم اب فیض آباد دھرنا ختم ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فیض آباد دھرنے پر وزارت دفاع کی رپورٹ کی کاپی حاصل کی گئی۔ رپورٹ میں اہم بات سامنے آئی کہ فیض آباد دھرنا ختم کروانے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں طویل میٹنگ کے بعد دھرنا ختم کروانے کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو مذاکرات کا مکمل اختیار دیا گیا۔

جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے سے متعلق غلط کہانیاں بنائی گئیں۔ واضح رہے تحریک لیبک اور اتحادی جماعتوں نے ختم نبوتﷺ قانون میں تبدیلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

احتجاجی مظاہرین نے حکومت سے ختم نبوتﷺ قانون میں تبدیلی کے ذمہ دران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرین جن کی قیادت مولانا خادم حسین رضوی کررہے تھے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ختم نبوتﷺ قانون میں تبدیلی کرنے والے وفاقی وزیرقانون زاید حامد استعفیٰ دیں جبکہ وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ قادیانیوں کے حق میں بیان دینے پر استعفیٰ دیں اور معافی مانگیں۔

فیض آباد آپریشن میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے بعد مشتعل مظاہرین نے املاک کو نقصان پہنچایا اور قریبی مقامات پر مختلف جگہوں پر ٹائر جلائے اور آگ بھی لگائی گئی۔جس کے بعد پاک فوج نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ کروایا جس کے بعد پُرتشدد مظاہرہ پُرامن طور پر ختم ہوگیا۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کو ختم کروانے میں آرمی چیف نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے افسر نے اہم کردار ادا کیا۔

جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ فیض آباد دھرنے کے معاملے کو ختم کروانے میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ امجد شعیب نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے تمام معاملے کو آئی ایس آئی کے ایک افسر دیکھ رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے جب دھرنا ختم کروانے کے لیے آرمی چیف سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ تمام معاملے پر آئی ایس آئی کے افسر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان سے رابطہ کیا جائے۔ امجد شعیب نے مزید کہا کہ دھرنے والوں سے ہونے والے معاہدے میں نام تو آرمی چیف کا شامل کیا گیا تاہم معاہدہ آئی ایس آئی کے افسر کی جانب سے طے کروایا گیا تھا۔