ملکی تاریخ میں پہلی بار مئی کے مہینے میں پاکستان میں نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز

رواں سال نہری پانی کی کمی کے باعث کپاس کی بوائی میں غیر معمولی تاخیر کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا،احسان الحق

پیر مئی 16:12

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) ملکی تاریخ میں پہلی بار مئی کے مہینے میں پاکستان میں نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز۔ پنجاب کے شہر ہارون آباد میں گزشتہ روز ایک کاٹن جننگ فیکٹری نے نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز کر دیا جبکہ کل (30مئی) کو سندھ کے شہر سانگھڑ میں بھی 2 جننگ فیکٹریوں میں پھٹی کی بھرپور آمد کے باعث یہ جننگ فیکٹریاں بھی آپریشنل ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال نہری پانی کی کمی کے باعث کپاس کی بوائی میں غیر معمولی تاخیر کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ رواں سال پاکستان میں نیا کاٹن جننگ سیزن جو روائتی طور پر پنجاب اور سندھ کے دو / تین شہروں میں جون کے پہلے ہفتے میں شروع ہوتا تھا اس میں تین سے چار ہفتے کی تاخیر واقع ہو گی لیکن سندھ کے ساحلی شہروں بدین ،گھارو ،ٹھٹھہ ،ٹنڈو بھاگو ،میر پور ساکرو اور چوہڑ جمالی میں غیر متوقع طور پر کپاس کی چنائی پہلے کے مقابلے میں بھی جلد شروع ہونے کے باعث ان علاقوں سے پھٹی خرید کر ہارون آباد میں ایک جننگ فیکٹری نے گزشتہ روز کاٹن جننگ کا آغاز کر دیا جبکہ اطلاعات کے مطابق سندھ کے شہر سانگھڑ میں بھی ایک / دو روز کے دوران دو جننگ فیکٹریاں جبکہ جون کے پہلے ہفتے میں سندھ اور پنجاب میں پانچ سے زائد جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہونے کے امکانات ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پھٹی کی خریدوفروخت 3 ہزار 700 روپے فی من ،بنولہ 1ہزار 500 روپے فی من جبکہ روئی کی خریدوفروخت 8 ہزار 100 روپے فی من جو ملکی تاریخ میں کسی بھی کاٹن سیزن کے آغاز کے تیز ترین نرخ ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں سال روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں قدرے تیزی کا رجحان رہے گا کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی قدر بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کے رجحان کے ساتھ ساتھ سوتی دھاگے کی قیمتوں میں بھی مسلسل تیزی کا رجحان اس کی بڑی وجوہات ہیں ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کے جن ساحلی شہروں میں کپاس کی چنائی کا آغاز ہوا ہے اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں 10 سے 15 فیصد زائد ہیں ۔