رمضان المبارک میں مختلف فلاحی تنظیمیں زکوة، صدقات، خیرات، فطرانہ وغیرہ اکٹھا کرکے مختلف فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں،زکوة، صدقات اور فطرانے کے مصارف کا صحیح استعمال ہونا چاہئے،عوامی حلقے

پیر مئی 16:13

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) رمضان المبارک میں مختلف فلاحی تنظیمیں زکوة، صدقات، خیرات، فطرانہ وغیرہ اکٹھا کرکے مختلف فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزہ اور عبادت کے ساتھ اپنی زکوة، صدقات اور فطرانہ کی ادائیگی مذہبی فریضہ تصور کرکے دیا جائے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی زکوة، صدقات اور فطرانے کے مصارف کا صحیح استعمال ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعلی اور غیر قانونی فلاحی تنظیموں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور صرف حقیقی ضرورت مند افراد کی ہی مدد کی جائے۔ ان دنوں جڑواں شہروں میں بھکاریوں کی آمد میں اضافہ ہو گیا ہے جو بس سٹاپوں، سڑکوں اور بازاروں میں شہریوں کو تنگ کرکے زکوة، صدقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

شہریوں کا کہنا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور صرف رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں کے ذریعے ہی ضرورت مندوں کی مدد کی جائے جو کوئی سیاسی عزائم نہ رکھتی ہوں۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک میں مختلف مقامات پر فلاحی تنظیموں کے نام سے کئی جعلساز متحرک ہیں جو سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں، شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مستحق ضرورت مند افراد کی مدد کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ عنوان :