کردوں کو ریلی کیوں نکالنے دی، ترکی کی جانب سے جرمنی کی مذمت

ترک ملٹری آپریشن کے خلاف مظاہروں کی اجازت دی،کردحامیوں کو تقریرسے روک دیا،جرمن ردعمل

پیر مئی 16:26

انقرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) ترکی نے جرمن شہر کلون میں کٴْردوں کی حمایت میں ایک ریلی نکالنے کی اجازت دینے پر جرمنی کی مذمت کی ہے۔یہ فیصلہ جرمنی کے دہرے معیار کی علامت ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں برلن حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہرا معیار قرار دیا ۔ترک وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہاکہ اس دو رخی پالیسی کی ہم بھر پور طور پر مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ فیصلہ نہ تو جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ترک جرمن تعلقات کو نارمل سطح پر لانے کی کوششوں سے میل کھاتا ہے۔

دوسری جانب جرمن حکومت کا کہنا تھا کہ ملک کے مغربی شہر کلون میں کردوں کو شام میں جاری ترکی کے ملٹری آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں جرمنی کی جانب سے وضاحتی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس مظاہرے میں ترکی میں اپوزیشن کے دو سیاستدانوں کو بھی تقریریں کرنے سے روک دیا گیا تھا جن کا تعلق پرو کردش جماعت ایچ ڈی پی سے ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس مظاہرے کے دوران جن افراد کو تقریر کرنے کی اجازت دی گئی تھی اٴْن میں ممکنہ طور پر احمد یلدرم اور طوبی حیزر نامی دو افراد بھی شامل ہیں۔ یلدرم ترکی کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب ہیں۔ ترک حکومت کے مطابق احمد یلدرم مبینہ طور پر کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ کردستان ورکرز پارٹی 1980کی دہائی سے جنوب مشرقی ترکی میں آزادی کے لیے مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترکی کے علاوہ یورپی یونین اور امریکا نے بھی کردستان ورکرز پارٹی کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔۔ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات آئندہ ماہ کی چوبیس تاریخ کو ہونا طے پائے ہیں اور صدر ایردوآن کی جماعت جرمنی سمیت کئی دیگر یورپی ممالک میں انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے منعقد کرنے کی کوششوں میں ہے۔۔جرمنی سمیت کئی دیگر اہم یورپی ممالک کی جانب سے جلسوں اور ریلیوں کی اجازت نہ ملنے پر ترک صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ ہفتے بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو میں ایک ریلی کا انعقاد کیا تھا۔