سید ناصر حسین شاہ اور منظورحسین وسان بھی اقامہ ہولڈر نکلے

صوبائی وزرا کی نااہلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کردی گئیں

پیر مئی 17:01

سید ناصر حسین شاہ اور منظورحسین وسان بھی اقامہ ہولڈر نکلے
․کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پیپلزپارٹی کے دوصوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ اور منظورحسین وسان بھی اقامہ ہولڈر نکلے، جن کی نااہلی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔پیرکوسندھ ہائی کورٹ میں صوبائی وزیر اطلاعات سیدناصر حسین شاہ اوروزیرصنعت وتجارت منظورحسین وسان کے خلاف دو علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی گئیں ہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ 2009 میں یو اے ای کے اقامہ ہولڈر ہیں ،انہوں نے 2013 کے کاغذات نامزدگی میں اپنا پیشہ زراعت ظاہر کیا تھا جبکہ یواے ای کے اقامہ کو ظاہر نہیں کیا اس پر وہ صادق اور امین نہیں رہے۔درخواست گزارمحمد زبیر جتوئی کے مطابق ناصر حسین شاہ 2009 سے دبئی میں اقامہ ہولڈر ہیں اورکمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

محمد زبیر جتوئی نے درخواست میں کہا ہے کہ 2013 کے کاغذات نامزدگی میں پی پی پی رہنما نے خود کو زراعت پیشہ ظاہر کیا تھا لہذا انہوں نے جھوٹ بولا، وہ صادق و امین نہیں رہے۔درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ ناصرحسین شاہ کو 2013 سے نااہل قرار دیتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جائے اور بطور وزیر ملنے والی تمام مراعات واپس لی جائیں۔

درخواست گزار زبیرجتوئی نے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن اوردیگر کو فریق بنایا ہے۔دوسری درخواست صوبائی وزیر منظور وسان کیخلاف درج کی گئی ہے اس میں کہا گیا کہ پیپلزپارٹی کے رہنمامنظور وسان دبئی کی کمپنی کے شیئر ہولڈر ہیں اور کاغذات نامزدگی میں اقامہ ظاہر نہ کرنے پر نااہل قراردیا جائے۔اس سے قبل وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال پر بھی اقامہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا،،سندھ ہائی کورٹ میں صوبائی وزیر برائے داخلہ سہیل انور سیال کے اقامے کے معاملہ پر کیس کی سماعت سہیل انور سیال کے سیاسی مخالف اللہ بخش کی درخواست پر کی گئی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل خواجہ شمس السلام نے موقف دائر کیا کہ سہیل انور سیال نے اقامہ حاصل کیا لیکن انتخابی گوشواروں میں اقامے کا ذکر نہیں کیا۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ سہیل انور سیال 2014 سے حلقہ پی ایس35سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے،ان کے پاس اقامہ موجود تھا، جس کا ذکر انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں نہیں کیا تھا، لہذا قامہ چھپانے پر وہ صادق اور امین نہیں رہے۔اللہ بخش نے عدالت سے استدعا کی کہ سہیل انور سیال لہذا نااہل قرار دیا جائے اوردوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روکا جائے، جس پر سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت، چیف الیکشن کمشنر،، سہیل انور سیال و دیگر کو پانچ جون کے نوٹس جاری کئے ہیں۔