تحریک انصاف نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی گئی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا

پیر مئی 17:10

تحریک انصاف نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی گئی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی گئی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا۔پیر کو الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی مبینہ غیر ملکی پارٹی فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی ،،پی ٹی آئی کی جانب سے بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،،پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز کو چیلنج کیا تھا،،پی ٹی آئی نے سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب جمع کروا دیا ،ْبابر اعوان نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہیں،،پی ٹی آئی کو 2009 سے 2013 تک اکاونٹس کی چھان بین پر کوئی اعتراض نہیں،اکائونٹس کی سکروٹنی شفاف ہونی چاہیے،،عمران خان اور تحریک انصاف کوالیکشن کمیشن کے سکروٹنی اختیار پر کوئی اعتراض نہیں،،بابر اعوان نے کہا کہ کسی فرد کو پارٹی میں شامل کرنا نکالنا پارٹی کا اختیار ہے،،الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے اکائونٹس کی چھان بین تیسرے فریق کے سامنے نہیں کرسکتا،،بابر اعوان نے حنیف عباسی عمران خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ بھی دیا ،،بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی پر غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات من گھڑت،بے بنیاد،بدنیتی پر مبنی ہیں،اکبر ایس بابر بدنیتی پر مبنی الزامات لگا رہے ہیں،حنیف عباسی عمران خان کیس میں سپریم کورٹ نے پارٹی کے اکائونٹس کی تحقیقات کا پیرا میٹر بنایا ہے، درخواستگزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد منصور نے دلائل دیتے ہوئے بتایاکہ تحریک انصاف پارٹی کارکنان کو نکالنے کے لیے بھی کوئی ثبوت نہیں دے سکی۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالنے کا ثبوت دے۔پارٹی آئین کے مطابق بغیر کسی نوٹس کے کسی کو نکالا نہیں جا سکتا۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارٹی فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے حق میں فیصلہ دیا تھا، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی۔۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ تحریک کے غیر ملکی فنڈنگ پر میرے دلائل مکمل کر لیے گئے ہیں،اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالا جا چکا ہے اس کو فنڈز ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا ایک شخص پارٹی میں نا ہو اس کے ساتھ کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتی،،پاکستان میں سینکڑوں سیاسی جماعتوں میں صرف پی ٹی آئی کے اکاونٹس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔دیگر جماعتوں کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق درخواستیں موجود ہیں تاہم کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔ انہوں نے کہا پنجاب میں مختلف اداروں اور کمپنیوں میں ایک سو سولہ ارب روپے کی کرپشن شہباز حکومت کے دور میں ہوئی۔

گلو بٹوں کے اقتدار میں تین دن رہ گیے ہیں اور ایسے رخصت ہوں گے کہ کبھی مڑ کر برسراقتدار نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف پنجاب میں بھی کلین سویپ کرے گی۔۔عمران خان نے پنجاب کے اداروں میں موجود بیوروکریٹس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور انکے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔ انہوں نے کہا وزیراعظم نے ایک ارب روپے کچھ یونین کونسلوں میں لوگوں کو حج کی ادائیگی کے لیے دئیے ہیں۔

وزیراعظم کو کوئی اختیار نہیں کہ قوم کے پیسے تقسیم کرے۔۔وزیراعظم اپنی ایر لائن سے لوگوں کو مفت بھیج سکتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی سکروٹنی کمیٹی بنائی تھی اس نے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنی تھی،،تحریک انصاف نے کمیٹی کی کاروائی کو خفیہ رکھنے کی درخواست کی،،الیکشن کمیشن کو چاہیے سکروٹنی میں کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے،،تحریک انصاف نے بار بار وکیل تبدیل کیے،ہم نے تحریک انصاف کی غیرملکی فنڈنگ کے خلاف تمام ثبوت الیکشن کمیشن میں پیش کیے ہیں، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں ہنڈی کے ذریعے پیسہ آیا ہے،،الیکشن سر پر ہیں تحریک انصاف کی پارٹی فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد آنا چاہیے،،تحریک انصاف کی پارٹی فنڈنگ کیس کا فیصلہ الیکشن سے پہلے عوام کے سامنے آنا چاہیے،فیصلے سے صادق اور امین ہونے کے دعوے سامنے آئیں گے۔