وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت 14 ادارے کام کر رہے ہیں،

10 کے سربراہان موجود، 4 اداروں کے سربراہان کی بھرتی کے لئے اشتہار اخبار میں دے دیا گیا ہے‘ اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں ان اداروں کے ایکٹ ‘ آرڈیننس اور قواعد و ضوابط کے تحت کی جاتی ہیں پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص کا قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال

پیر مئی 17:19

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت 14 ادارے کام کر رہے ہیں،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت 14 ادارے کام کر رہے ہیں جن میں سے 10 کے سربراہان موجود ہیں اور 4 اداروں کے سربراہان کی بھرتی کے لئے اشتہار اخبار میں دے دیا گیا ہے‘ اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں ان اداروں کے ایکٹ ‘ آرڈیننس اور قواعد و ضوابط کے تحت کی جاتی ہیں‘ گزشتہ پانچ برسوں میں متعلقہ اداروں کے قواعد و ضوابط اور ایکٹس کے تحت تقرریاں کی گئیں۔

پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران نعیمہ کشور خان اور دیگر کے سوالات کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت 14 اداروں میں سے 4 اداروں کے سربراہان نہیں ہیں جن کی تقرری کے لئے اشتہار دے دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی پابندی ہے لیکن اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو خط لکھا گیا ہے۔

تقرری تین سال کے لئے کی جاتی ہے۔ شیخ صلاح الدین کے ضمنی سوال پر انہوں نے کہا کہ بورڈ آف گورنرز کو اختیارات حاصل ہیں تاہم سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد اب بورڈ اپنی سفارشات مرتب کرتا ہے اور کابینہ کو ارسال کردیتا ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ اداروں کے سربراہان کو ان اداروں کے ایکٹ اور قواعد و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عملہ ڈویژن سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے اور اخبارات میں آسامی کو مشتہر کرنے کے بعد امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جارہی ہیں۔

مجاز اتھارٹی کی منظوری سے مختصر فہرستی کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے اور یہاں پر منتخب امیدواروں کو سلیکشن بورڈ کی جانب سے انٹرویو کے لئے بلایا جاتا ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ اداروں کے سی ای او‘ سربراہان خودمختار‘ نیم خودمختار کی تقرریوں کے لئے سلیکشن بورڈ وزیراعظم کی منظوری سے قائم کئے گئے ہیں۔ سلیکشن بورڈ امیدواروں کی تعلیمی قابلیت ‘ تجربہ اور مہارت کا جائزہ لیتا ہے اور تین امیدواروں کے پینل مرتب کرتا ہے تاکہ حکومت متعلقہ اداروں کے قواعد کے مطابق ان کی تقرری کر سکے۔