اسد درانی کی متنازعہ کتاب پر جی ایچ کیو میں طلبی،پاک فوج کا معاملے کی تفصیلی

تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری کا حکم کورٹ آف انکوائری کی سربراہی حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کریں گے، اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رابطہ کرلیا گیا، آئی ایس پی آر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر متنازعہ کتاب لکھی جس پر پاک فوج نے تحفظات کا اظہارکیا تھا

پیر مئی 17:36

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پاک فوج نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی جانب سے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر متنازعہ کتاب لکھنے کے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے مجاز اتھارٹی سے رابطہ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر ‘دی سپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس‘ نامی ایک کتاب لکھی جس پر پاک فوج نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی 28 مئی کو جی ایچ کیو میں پیش ہو کر معاملے پر وضاحت کریں ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی پیر کو جی ایچ کیو میں پیش ہوئے جس پر ان سے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر متنازع کتاب لکھنے پر وضاحت مانگی گئی ۔

(جاری ہے)

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی تفصیلی تحقیقات کیلئے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیدیا گیا ہے۔ کورٹ آف انکوائری کی سربراہی حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کرینگے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جاسکیں۔