انگلینڈ ، آسٹریلوی کر کٹ بورڈ اورانگلش کپتان جوئے روٹ نے میچ فکسنگ سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹ مسترد کر دی

ہم نے ابھی تک کوئی ایسے شواہد نہیں دیکھے جن کی وجہ سے ہم اپنے کھلاڑیوں پر کسی قسم کا بھی شک کریں، ہمیں جو محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں ہم نے اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ اس پر بات کی ہے، انگلش بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن متعلقہ چینل کے پاس فکسنگ سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں،چینل اصل ویڈیو ٹیپ آئی سی سی کے حوالے کرے، تاکہ آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا آغاز ہوسکے، اس سلسلے میں جو بھی تعاون درکار ہوگا ہم دیں گے،ترجمان آسٹریلوی کر کٹ بورڈٖ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات انتہائی اشتعال انگیز ہیں،انگلش کپتان جوئے روٹ

پیر مئی 18:12

انگلینڈ ، آسٹریلوی کر کٹ بورڈ اورانگلش کپتان جوئے روٹ نے میچ فکسنگ ..
لندن/سڈنی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) انگلینڈ کر کٹ بورڈ،اور آسٹریلوی کر کٹ بورڈ اورانگلش کرکٹ ٹیم کے کپتان جوئے روٹ نے میچ فکسنگ سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ ہم نے ابھی تک کوئی ایسے شواہد نہیں دیکھے جن کی وجہ سے ہم اپنے کھلاڑیوں پر کسی قسم کا بھی شک کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جو محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں ہم نے اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ اس پر بات کی ہے۔انگلینڈ کے کوچ ٹریور بیلس نے بھی ان الزامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بس انگلش کرکٹ بورڈ پر یہ معاملہ چھوڑ دینا چاہیے۔آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے سامنے آنے والے نئے میچ فکسنگ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔

(جاری ہے)

بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس فکسنگ سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، آسٹریلوی بورڈ کے چیف کی جانب سے متعلق ٹی وی چینل سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اصلہ ویڈیو ٹیپ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے حوالے کرے، تاکہ آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا آغاز ہوسکے، اس سلسلے میں جو بھی تعاون درکار ہوگا، ہم دیں گے۔

سنڈرلینڈ چیف کا مزید کہنا تھا کہ بیشک ہمیں اس سلسلے میں کوئی مصدقہ شواہد اور ثبوت یا اصلی ویڈیو فراہم نہیں کی گئی ہے، تاہم اپنے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہم اس بات پر متفق ہیں کہ اس سلسلے تحقیقات کیلئے مکمل تعاون اور سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے الجزیرہ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان جو روٹ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات انتہائی اشتعال انگیز ہیں۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس حوالے سے کھلاڑیوں سے بات کی ہے جو کہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔۔آسٹریلیا کی کرکٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھیں کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے حوالے سے کسی ٹھوس شواہد کا علم نہیں ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم نے ابھی یہ دستاویزی فلم نہیں دیکھی ہے مگر ہمارا موقف ہے کہ ایسے تمام معاملات کو سنجیدگی اور مکمل انداز میں جانچا جانا چاہیے۔بورڈ نے الجزیرہ سے استدعا کی ہے کہ آئی سی سی کی انسدادِ بدعنوانی ٹیم کو مکمل فوٹیج فراہم کی جائے۔پروگرام میں سری لنکا کے ٹیسٹ گرانڈ گالے کے حوالے سے انکشافات تھے۔۔پاکستان اور سری لنکا دونوں کے کرکٹ بورڈز نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے۔

ایک سابق پاکستانی کھلاڑی حسن رضا پر بھی ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔واضح رہے کہ عرب ٹی وی کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ دو سال میں بھارتی ٹیم کے تین ٹیسٹ میچز کے مختلف سیشنز فکس کیے گئے تھے، جس میں انگلینڈ کی3 اور آسٹریلیا کے 2 کھلاڑیوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ دوسری جانب انگلش کرکٹرز نے الزامات رد کردئیے، جبکہ آسٹریلوی کرکٹرز نے ردعمل دینے سے پہلے انکار کیا، تاہم بعد ازاں جاری بیان میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ابھی تک کسی بھارتی کرکٹر کا نام سامنے نہیں آیا، فکسرز کیوریٹر اور کھلاڑیوں کو کس طرح رشوت دیتے ہیں ، کس طرح کنکشن استعمال کر تے ہیں ، سب سامنے آگیا۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال 16 سی20 دسمبر کے درمیان چنئی میں بھارت انگلینڈ ٹیسٹ میچ فکس تھا ، بھارت اور سری لنکا کے درمیان گال میں جولائی 2017میں کھیلا گیا ٹیسٹ بھی فکس میچ تھا ، مارچ 2017میں رانچی میں ہوا آسٹریلیا بھارت ٹیسٹ بھی فکس تھا ،ان تینوں ٹیسٹ میچز کے مخصوص سیشنز کھلاڑیوں اور فکسرز کے درمیان طے شدہ تھے۔