لارڈز ٹیسٹ،محمد عباس نے کامیابی کا سہرا کوچ اظہر محمود کے سر باندھ دیا

وسیم اکرم، وقار یونس اور خاص طور پر بولنگ کوچ اظہر محمود سے بہت کچھ سیکھنے کوملا، اظہر محمود بڑے بھائیوں کی طرح پیش آتے ہیں اور وہ انگلش کنڈیشنز میں کافی کھیلے ہوئے ہیں، اب نظریں اگلے میچ پر مرکوز ہیں، بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں اور سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے،فاسٹ بائولر محمد عباس

پیر مئی 18:18

لارڈز ٹیسٹ،محمد عباس نے کامیابی کا سہرا کوچ اظہر محمود کے سر باندھ ..
لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) انگلینڈ کیخلاف لارڈز ٹیسٹ میں شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پاکستانی فاسٹ بائولرمحمد عباس نے اپنی کامیابیوں کا سہرا بولنگ کوچ اظہرمحمود کے سر باندھ دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عباس نے کہا کہ لارڈز میں پرفارم کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، پاکستان ٹیم کی انگلینڈ آمد سے قبل یہاں لیسٹر کی نمائندگی کا موقع ملا جس سے انگلش کنڈیشنز کوبہتر انداز میں سمجھ پایا، لارڈز ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی دکھانا میرے اورٹیم کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا، کانٹی کے تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے آئرلینڈ اوراب انگلینڈ کے خلاف اچھا پرفارم کیا جس پر بہت خوشی ہوں۔

پیسر نے بتایا کہ وسیم اکرم،، وقار یونس اور خاص طور پر بولنگ کوچ اظہر محمود سے بہت کچھ سیکھنے کوملا، پی ایس ایل کے دوران وسیم اکرم کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا، اظہر محمود بڑے بھائیوں کی طرح پیش آتے ہیں اور وہ انگلش کنڈیشنز میں کافی کھیلے ہوئے ہیں، کاونٹی کھیلنے کے دوران بھی ان سے رابطہ رہا، انھوں نے ہر مقام پر بھرپور حوصلہ افزائی اور رہنمائی فراہم کی جس کا کافی فائدہ ہوا، بدقسمتی سے لارڈز میں 5وکٹیں حاصل کرکے آنر بورڈ پر اپنا نام نہیں درج کروا پایا، آئندہ موقع ملا تو یہ خواب پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔

(جاری ہے)

محمد عباس نے کہا کہ لارڈز میں پچ بہت اچھی تھی، پاکستان کی نوجوان ٹیم نے پہلی اننگز میں تجربہ کار میزبان سائیڈ کو جلدی آوٹ کیا، اب نظریں اگلے میچ پر مرکوز ہیں، بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں اور انگلش ٹیم کو ہراتے ہوئے سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کیریئر میں بہت مشکلات سے گزرا ہوں لیکن وہی اب میرے کام بھی آ رہی ہے، تاہم ان حالات میں بھی مثبت سوچ رکھی جس کی وجہ سے قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا، نوجوان کرکٹرز بھی محنت کو اپنا شعار بنائیں، ان کی کوششیں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی۔