غیر ملکی فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی نے سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا

سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہیں،پی ٹی آئی کو 2009 سے 2013 تک اکاو نٹس کی چھان بین پر کوئی اعتراض نہیں،اکاونٹس کی سکروٹنی شفاف ہونی چاہیے،عمران خان اور تحریک انصاف کوالیکشن کمیشن کے سکروٹنی اختیار پر کوئی اعتراض نہیں، کسی فرد کو پارٹی میں شامل کرنا نکالنا پارٹی کا اختیار ہے،الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے اکاو نٹس کی چھان بین تیسرے فریق کے سامنے نہیں کرسکتا، بابر اعوان کے دلائل الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی

پیر مئی 18:23

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی گئی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا،کیس کی سماعت کے دوران بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہیں،،پی ٹی آئی کو 2009 سے 2013 تک اکاو نٹس کی چھان بین پر کوئی اعتراض نہیں،اکاونٹس کی سکروٹنی شفاف ہونی چاہیے،،عمران خان اور تحریک انصاف کوالیکشن کمیشن کے سکروٹنی اختیار پر کوئی اعتراض نہیں، کسی فرد کو پارٹی میں شامل کرنا نکالنا پارٹی کا اختیار ہے،،الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے اکاو نٹس کی چھان بین تیسرے فریق کے سامنے نہیں کرسکتا، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی ۔

(جاری ہے)

پیر کو الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی مبینہ غیر ملکی پارٹی فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعتچیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی ،،پی ٹی آئی کی جانب سے بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،،پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ پر بنائی سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز کو چینلج کیا تھا،،پی ٹی آئی نے سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز پر اعتراضات پر تحریری جواب جمع کروا دیا، بابر اعوان نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہیں،،پی ٹی آئی کو 2009 سے 2013 تک اکاونٹس کی چھان بین پر کوئی اعتراض نہیں،اکاو نٹس کی سکروٹنی شفاف ہونی چاہیے،،عمران خان اور تحریک انصاف کوالیکشن کمیشن کے سکروٹنی اختیار پر کوئی اعتراض نہیں،،بابر اعوان نے کہا کہ کسی فرد کو پارٹی میں شامل کرنا نکالنا پارٹی کا اختیار ہے،،الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے اکاو نٹس کی چھان بین تیسرے فریق کے سامنے نہیں کرسکتا،،بابر اعوان نے حنیف عباسی عمران خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ بھی دیا ،،بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی پر غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات من گھڑت،بے بنیاد،بدنیتی پر مبنی ہیں،اکبر ایس بابر بدنیتی پر مبنی الزامات لگا رہے ہیں،حنیف عباسی عمران خان کیس میں سپریم کورٹ نے پارٹی کے اکاو نٹس کی تحقیقات کا پیرا میٹر بنایا ہے، درخواستگزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد منصور نے دلائل دیتے ہوئے بتایاکہ تحریک انصاف پارٹی کارکنان کو نکالنے کے لیے بھی کوئی ثبوت نہیں دے سکی۔

تحریک انصاف اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالنے کا ثبوت دے۔پارٹی آئین کے مطابق بغیر کسی نوٹس کے کسی کو نکالا نہیں جا سکتا۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پارٹی فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے حق میں فیصلہ دیا تھا، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی۔