وزیراعظم نے 5 سالہ حکومتی کارکردگی رپورٹ پیش کر دی

2013کے مقابلے میں ملک میں واضع بہتری لائے ہیں ،قرضے لے کر ہی گروتھ حاصل کی جاتی ہے، ہر حکومت قرضے لیتی رہی ہے، ہم نے قرضے لے کر انوسٹمنٹ کی ، ہم انکم ٹیکس اصلاحات لا ئے ، جو پاکستان میں نئی بلکہ دنیا میں سب سے موثر اور لیبرل ہو گا، دھرنا ہوا اور پانامہ کے اپنے اپنے اثرات تھے، ان سے ملکی معیشت پر بہت اثرات پڑے ہیں،2018میں خدمات کے شعبے کی شرح 6.4فیصد ہے، برآمدات 22فیصد سے کم ہو کر 20فیصد پر آئیں، ترسیلات زر میں 40فیصد سے زائد اضافہ ہوا ، رواں سال گندم کی پیداوار25.49ملین ٹن ہے، رواں سال غیر ملکی زرمبادلہ 16.23ارب ڈالر ہے، نجی سرمایہ کاری 2.2سے بڑھ کر 3.7ٹریلین ڈالر پر ہوئی،2013میں شرح سود9فیصد تھی رواں سال 6.5فیصد پر آ چکی ہے، ہم نے انکم ٹیکس اصلاحات لائی ہیں، بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پریس کانفرنس سے خطاب

پیر مئی 18:45

وزیراعظم نے 5 سالہ حکومتی کارکردگی رپورٹ پیش کر دی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 2013کے مقابلے میں ملک میں واضع بہتری لائے ہیں، قرضے لے کر ہی گروتھ حاصل کی جاتی ہے، ہر حکومت قرضے لیتی رہی ہے، قرضوں سے واضح بہتری نظر آرہی ہے، ہم نے قرضے لے کر انوسٹمنٹ کی اور اس سے گروتھ آئی ، ایمنسٹی سکیم کا اعلان ہم نے نہیں کیا، ہم انکم ٹیکس اصلاحات لا ئے ، جو پاکستان میں نئی بلکہ دنیا میں سب سے موثر اور لیبرل ہو گا، جب دھرنا ہوا اور پانامہ کے اپنے اپنے اثرات تھے، ان سے ملک کی معیشت پر بہت اثرات پڑے ہیں،2018میں خدمات کے شعبے کی شرح 6.4فیصد ہے، برآمدات 22فیصد سے کم ہو کر 20فیصد پر آئیں، ترسیلات زر میں 40فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، رواں سال گندم کی پیداوار25.49ملین ٹن ہے، رواں سال غیر ملکی زرمبادلہ 16.23ارب ڈالر ہے، نجی سرمایہ کاری 2.2سے بڑھ کر 3.7ٹریلین ڈالر پر ہوئی،2013میں شرح سود9فیصد تھی رواں سال 6.5فیصد پر آ چکی ہے، ہم نے انکم ٹیکس اصلاحات لائی ہیں، بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 2013میں صنعتی ترقی اعشاریہ 75فیصد تھی، 2018میں صنعتی ترقی 5فیصد سے بڑھ چکی ہے، تعمیراتی کاموں میں 1.08فیصد تھی اور 2018میں 9.13فیصد ہے،2013زراعت کی پیداوار2.68فیصد تھی جبکہ 2018میں 3.18ہو چکی ہے، گندم کی پیداوار4.21ملین ٹن تھی اب 25.49ملین ٹن ہے، چاول کی پیداوار 2013میں 5.54ملین ٹن تھی جو 2018میں 7.44ملین ٹن ہے،2013میں کاٹن 13.03ملین بیلز تھی اب 11.94ملین ٹن ہو چکی ہے، چینی کی پیداوار 63.75ملین تھی اب 81.1ملین ٹن ہو چکی ہے، خدمات کے شعبے میں گروتھ 1.3فیصد تھی، 2018میں خدمات کے شعبے کی شرح 6.4فیصد ہے، 2013میں افرط زر 7.75فیصد تھی جو اس دفعہ3.77فیصد ہو چکی ہے، کھانے پینے کی اشیاء میں مہنگائی کی شرح 2013میں 7.75فیصد تھی اس دفعہ 1.77فیصد ہو چکی ہے، ہر لحاظ سے افراط زر میں بڑی واضع کمی وقوع پذیر ہوئی ہے، کپاس کی پیداوار میں ماضی کی نسبت کمی آئی ہے، برآمدات 22فیصد سے کم ہو کر 20فیصد پر آئیں، ترسیلات زر میں 40فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، رواں سال غیر ملکی زرمبادلہ 16.23ارب ڈالر ہے، نجی سرمایہ کاری 2.2سے بڑھ کر 3.7ٹریلین ڈالر پر ہوئی ہے، 2013میں فی کس آمدن 1234ڈالر تھی، جہاں تک بات تین ماہ کی تنخواہ کی ہے ہر سال حکومت اعزازیہ دیتی ہے،اس سے پہلے ہر منسٹری میں دو یا تین تنخواہیں دی جاتی تھیں اس کو ہم نے ایک جیسا کر دیا ہے اس میں کوئی اضافہ خرچہ نہیں آیا،2018میں فی کس آمدن 1641ڈالر ہے، محصولات وصولی کی شرح میں 65فیصد اضافہ ہوا، 2013میں شرح سود 9فیصد تھی، رواں سال شرح سود 6.5فیصد پر آچکی ہے،2013کے مقابلے میں ملک میں واضع بہتری لائے ہیں، قرضے لے کر ہی گروتھ حاصل کی جاتی ہے، ہر حکومت قرضے لیتی رہی ہے، قرضوں سے واضح بہتری نظر آرہی ہے، ہم قرضے لے کر انوسٹمنٹ کی ہے اور اس سے گروتھ آئی ہے، ہم نے انکم ٹیکس اصلاحات لائی ہیں، جو پاکستان میں نئی بلکہ دنیا میں سب سے موثر اور لیبرل ہو گا، جب دھرنا ہوا اس کے اپنے اثرات تھے، پانامہ کا معاملہ ہوا اس کے اپنے اثرات تھے، ان سے ملک کی معیشت پر بہت اثرات پڑے ہیں، الیکشن 25جولائی کو ہوں گے، شیڈول کا اعلان بھی الیکشن کمیشن کر دے گا، 2013سے 50فیصد بجلی صارفین کو مہیا کی جا رہی ہے، بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، فاٹا کے جوفنڈز کیلئے مختص کئے گئے پیسے ہیں وہ تمام سیاسی جماعتوں کی رائے سے ہیں، تمام جماعتوں نے مل کر فاٹا اصلاحات میں کردار ادا کیا ہے، بیرونی قرضوں میں کمی واقع ہوئی، قرضوں سے ہی پوری دنیا میں گروتھ آتی ہے، ہم وسائل صوبائی حکومت کو مہیا کردیتے ہیں، حکومت نے اپنے تمام فرائض ادا کئے، جب معیشت گروتھ کرتی ہے تو روزگار کے واقع بڑھتے ہیں، 2013میں 6.2فیصد بے روزگاری کی شرح تھی، ہمیں عوام نے ووٹ دیا تھا، کارکردگی کیلئے اور ہم نے ووٹ کو عزت دی ہے۔