" پاکستان ایگریکلچرٹیکنالوجی ٹرانسفر ایکٹویٹی -" پراجیکٹ کے تحت آگاہی ورکشاپ کا انعقاد

پیر مئی 20:08

لاہور۔28 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) محکمہ زراعت پنجاب اور یو ایس ایڈ کے باہمی تعاون سے ایک سٹیک ہو لڈر ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میںپاکستان میں زرعی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے والی15 اعلی کمپنیوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس آگاہی ورکشاپ کا انعقاد " پاکستان ایگریکلچر ٹیکنالوجی ٹرانسفر ایکٹویٹی " پراجیکٹ کے تحت کیا گیا۔۔حکومت پنجاب اور یو ایس ایڈ کے مابین ایم او یو پر پچھلے ماہ دستخط کے بعد اس پر اجیکٹ کے تحت صوبہ بھر میں کسانوں کو تکینکی خدمات کی فراہمی کیلئے میکانائزیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ۔

اس آگاہی ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد شرکاء پر واضح کرنا تھا کہ پاکستان کی زرعی آمدن میں پنجاب کا حصہ 80 فیصد ہے اوراس کی42 فیصد آبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔

(جاری ہے)

اس صورت میں پنجاب میں جہاں 60 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے، یہ پراجیکٹ کاشتکاروں کو تکینکی خدمات مہیا کرے اوران کی آمدن میں اضافہ کا باعث بنے گا۔اس موقع پر ورکشاپ میںشریک 15 نجی کمپنیوں کے نمائندگان نے پاکستان میں کسانوں کیلئے ٹیکنالوجی کو موثر موزوں اور سستا بنانے کیلئے کئی اہم عوامل کی شناخت کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر غضنفر علی ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (پلاننگ) نے عالمی سطح پر خوراک کی بڑھتی ہوئی ضررویات کو پورا کرنے پرروشنی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان میںحکومت پنجاب یو ایس ایڈ کے تعاون سے کاشتکاروں کو بہتر سروسز فراہم کر رہا ہے تاکہ نہ صرف ملکی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکے بلکہ ہم اپنی زرعی اجناس کو بین الاقوامی منڈیوں میں بھی فروخت کر سکیں۔

ڈاکٹر ڈینی جانسن چیف پارٹی یوایس ایڈ پاکستان ایگریکلچر ٹیکنالوجی ٹرانسفر ایکٹویٹی نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ پاکستانی زرعی ٹرانسفر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں آنے والے چار سالوں میں20 ملین یو ایس ڈالر کے کاروبار کا اضافہ کریں۔ اس آگاہی روکشاپ کے اختتام پر یہ بھی طے پایا گیا کہ زرعی شعبہ کی مستقبل کی ضررویات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب کے زرعی ماہرین اور نجی شعبے کے مابین ایک آگاہی سیشن کا انعقاد بھی کیا جائے گا اور اس سیشن کی سفارشات حکومت پنجاب کو ارسال کی جائیں گی۔