سندھ اسمبلی پانچویں پارلیمانی سال کے ساتھ ہی اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرکے تحلیل ہوگئی

اسپیکرسندھ اسمبلی کی جانب سے ارکان سندھ اسمبلی میں کارگردگی سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے گئے، اکثریت کوجمہوریت سمجھ لیا گیا ہے،اپوزیشن ارکان

پیر مئی 20:24

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) سندھ اسمبلی پانچویں پارلیمانی سال کے ساتھ ہی اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرکے تحلیل ہوگئی،الوداعی اجلاس میں پارلیمانی لیڈرز نے اسمبلی کی کارگردگی اورجمہوریت کے استحکام کے لیے پارلیمنٹرینزکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ، اسپیکرسندھ اسمبلی کی جانب سے ارکان سندھ اسمبلی میں کارگردگی سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے گئے ۔

اپوزیشن ارکان سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ اکثریت کوجمہوریت سمجھ لیا گیا ہے ،شراکتی جمہوریت ہونی چاہیئے اپوزیشن ارکان اسمبلی نے حکومت کی جانب سے فنڈزجاری نہ کرنے کوجمہوری روایات کے منافی قراردیا اسپیکرآغاسراج درانی کی زیرصدارت ہونے والے سندھ اسمبلی کے الوادعی اجلاس میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی ارکان نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔

(جاری ہے)

متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈرسید سرداراحمد کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اکثریت کوجمہوریت مان لیا گیا ہے جمہوریت شراکتی ہوتو ادارے زیادہ مظبوط اورڈیموکریسی مستحکم ہوتی ہے جمہوریت ابھی بھی کنوینشل ڈیموکریسی ہے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات میں نوجوانوں خواتین اورکسانوں کے لیے کوٹہ مختص کریں اورملک کی فلاح وبہبود کے لیے شراکتی جمہوریت رائج کی جائے اورفنڈز کی تقسیم کواضلاع کی سطح پریقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ مغلیہ سلطنت کی داغ بیل اکبر بادشاہ کی رواداری اور برداشت نے رکھی جبکہ اورنگزیب کی انتہاپسندی کی وجہ سے مغلیہ سلطنت زوال پزیر ہوگئی انہوں نے کہاکہ آغا سراج درانی سندھ اسمبلی کی تاریخ میں یادگار اسپیکر رہیں گے آغا سراج درانی نے برداشت کی پالیسی اپنائی ،شور شرابے اور گستاخیوں پر بھی ایکشن نہیں لیا۔ ڈپٹی اسپیکرشہلارضا نے الوداعی تقریرمیں کہاکہ کافی لوگوں کو مجھ سے شکایت ہوئی اسکے لیے معافی چاہتی ہوں ،اعزاز ہے کہ سات مرتبہ قائمقام گورنر رہی،خوشی ہے کہ قواعد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہاکہ مردوں کے معاشرے میں کسی بھی خاتون کے لیے بڑے چیلنجزہوتے ہیں مردوں کی ڈانٹ برداشت کرلی جاتی ہے کافی لوگوں کومجھ سے شکایات رہیں جس کی میں معافی چاہتی ہوں کوئی مجھے درگذرکرے نہ کرے میں سب کومعاف کرتی ہوں میں قوانین پرسختی سے عمل کیا جس سے لوگوں کوشکایات پیدا ہوئیں جس پرمعافی چاہتی ہوں ۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈرنثارکھوڑو نے کہاکہ ۔

اسپیکراور ایوان کو مبارکبادیتاہوں ،،آصف زرداری نے اس لئے اختیارات پارلمینٹ کو دیئے کہ پارلیمنٹ مظبوط ہو۔حکومتی پارلیمانی گروپ نے قانون سازی میں حصہ لیا۔اپوزیشن کا بھی شکر گذارہوں کہ انہوں نے حکومت کی قانون سازی میں مددکی،خرم شیرزمان کا بھی شکر گذار ہوں کہ اس نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ ملک میں مارشل لاآتے رہے آئین ٹوٹتے اور معطل ہوتے رہے،یہی سنتے رہیکہ کوئی آرہاہے اسمبلی جارہی ہے ہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں یہ ممکن نہیں کہ اپوزیشن کی سب شکایات اورمطالبات پورے ہوں ،پیپلزپارٹی نے دس سال میں تاریخی خدمت انجام دی ہے،صوبے میں بہت کام ہوا ہے ہم نے کم کام نہیں کیا،ایک صوبہ کہتا ہے کہ ہم نے ریپڈ ِبس چلادی ہے،ریپڈ بس اتنی مہنگی ہے کہ عوام سفر نہیں کرسکتے ،روزگار بڑھا ہے کم نہیں ہوا،پیدل چلنے والا سائیکل اور سائیکل والا موٹرسائیکل چلارہاہے۔

فنکشنل لیگ کی ڈپٹی پارلیمانی لیڈرمہتاب اکبرراشدی نے کہاکہ سندھ اسمبلی میں میرا پہلا تجربہ تھا،میں نے بہت کچھ سیکھا پتہ چلا کہ قانون سازی کیسے ہوتی ہے،،سندھ اسمبلی ملک کی سب سے زیادہ لبرل اور پروگریسو سمجھی گئی،سرکاری بنچوں پر بیٹھنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم سب درست کر رہے ہیں،حکومت تنقید کو تنقید برائے اصلاح سمجھنا چاہیے،افسوس کہ لوگ گندا پانی پیتے رہے ہم ایوان میں بیٹھے رہے ،سفارش کلچر پروان چڑھتا رہا اور ہم ایوان میں بیٹھے رہے ،ایوان سے رواداری کا سبق بھی سیکھا تلخیاں بھی ہوئیں،قوانین بہت بنے مگر عمل درآمد میں بہتری نہیں آئی ،اس ایوان میں آکر عزت حاصل کی ، سندھ کے لوگ گندہ پانی پیتے رہے کچھ نہیں ہوا ہم ایوان میں رہے،ملازمتوں کے جعلی ارڈر ملتے رہیاسپتال مذبحہ خانے بنے رہیہم شرمندہ ہیں کہ ایوان میں موجود رہے۔

مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر حاجی شفیع جاموٹ نے کہاکہ ہم نے سندھ حکومت کی بدولت کئی کام کروائے ہیں ،ایک شکایت ہے کہ سمندر گندا ہورہا ہے جس کی وجہ سے آئندہ بہت مسائل جنم لین گے ،گندا پانی سمندر مین جانے سے روکنے کے لیے اقدامات ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپوزیشن کو کچھ نہیں دیا اپوزیشن کے حلقوں کو فنڈز نہ دینا اچھی روایت نہیں ،اپوزیشن والے فنڈز کو کسی اور صوبے میں نہیں لے جا رہے تھے ،میری متعدد تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔

تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈرخرم شیرزمان کا کہنا تھا کہ اللہ پاک نے دوبارہ موقع دیا تو عوام کی خدمت کریں گے انہوں نے کہاکہ اسپیکرسمیت اگرکسی وزیریارکن اسمبلی کی دل آزاری ہوئی تو معذرت چاہتا ہوں ڈاکٹرسکندرمیندھرو واحد وزیرتھے جنہوں نے عوامی ایشوزپرساتھ دیا صفائی اورپانی کے مسائل ایوان میں اٹھائے سارے مسائل محکمہ بلدیات کے تھے ایوان میں آوازاٹھانے کا مقصد عوامی مسائل کا حل تھا بلدیاتی وزیرکوسب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا مقصد مسائل کے لیے حل کے لیے اقدامات تھے ۔