ٍڈی ایم سی سنٹرل نے غیرقانونی پارکنگ کے ذریعے عوام کا جینا دوبھر کردیا

ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ اختر رضا کے آشیرباد سے پارکنگ مافیا نے 100سے زائد مقامات پر پارکنگ سائٹس قائم کررکھی ہیں،ذرائع

پیر مئی 20:31

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی چارجڈ کارپارکنگ مافیا ڈی ایم سی افسران کے آشیرباد سے ضلع بھر میں متحرک ہوگئی تھی اور رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی راتوں رات ضلع بھر میں تمام مارکیٹس، شاپنگ مالز، ریسٹورانٹس اور ہسپتالوں کے اطراف چارجڈ پارکنگ سائٹس قائم کردی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سنٹرل کی انتظامیہ چنگچی رکشوں، بسوں اور کوچز سے بھی پارکنگ کی مد میں فیس وصول کررہی ہے۔

اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ سنٹرل کی انتظامیہ نے مورخہ 27.2.2017کو لیٹر نمبر No.DMC/C/DIR/C-PARK/001/2017 اخبارات میں ایک اشتہار شایع کروایا جس میں 39مقامات کو چارجڈ پارکنگ سائٹس قرار دیتے ہوئے کنٹریکٹرز سے درخواستیں طلب کیں اور اندرون خانہ محض ضلعی کونسل سے منظوری حاصل کرکے مذکورہ چارجڈ پارکنگ سائٹس کو کنٹریکٹرز کے حوالے کردیا گیا۔

(جاری ہے)

اس وقت ڈسٹرکٹ سنٹرل کا کوئی علاقہ اور کوئی سے سڑک چارجڈ پارکنگ سے مثتثنی نہیں ہے۔

اشتہار میں جن سائٹس کو ظاہر کیا گیا تھا ان میں چیز اپ ڈپارٹمنٹل اسٹور نارتھ ناظم آباد شاہراہ جہانگیر، ڈالمین مال بلاک سی نارتھ ناظم آباد، پاپوش نگر خلافت چوک تا چاندنی چوک بشمول تمام اندرونی گلیاں، 2-kبس استاب بازار، ناگن چورنگی لنک روڈ، شاہراہ چشتی، میٹرک بورڈ آفس اور اس کے اطراف کا تمام علاقہ، کیفے پیالہ، فلورنس میڈیکل سنٹر، حیدر مارکیٹ، حیدری سوئٹس و دہلی مسلم ہوٹل اور برہان سرکل حیدری، سرینا موبائل مارکیٹ، فتح باض اور اس کے اطراف کی گلیاں، نادرا میگا سنٹر بلاک ایل نارتھ ناظم آباد، پاپوش نگر موبائل مارکیٹ، دھمتل سوئٹس فیڈرل بی ایریا اور اس کے اطراف کی تمام گلیاں، حسین آباد فود اسٹریٹ اور اطراف کی تمام گلیاں، جاوید نہاری رود فیڈرل بی ایریا اور اطراف کی تمام گلیاں، سینٹرم مارکیٹ فیڈرل بی ایریا، مزیدار حلیم گلبرگ، موبائل مارکیٹ نصیرآباد، پیر بچت بازار نورانی مسجد فیڈرل بی ایریا، انارکلی بازار واٹرپمپ تا کراچھی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈزیزز، تالپور روڈ دونوں اطراف، باڑہ مارکیٹ نارتھ کراچی،، سمام شاپنگ سینٹر، اومیگا مال، چیز اپ ڈپارٹمنٹل استور 5-J نزد دو منٹ چورنگی، رضویہ تا گولیمار برج، چائولہ مارکیٹ ناظم آباد، لیاقت آباد ڈاکخانہ تا رضویہ چورنگی، مگنیٹ سٹی مارٹ کریم آباد، کے الیکٹرک آفس ناظم آباد 3۔

علاوہ ازیں، اشتہا ر میں درج کیا گیا کہ کے ایم سی درج ذیل پارکنگ سائٹس ڈی ایم سے سینٹرل کو منتقل کرے گی اور وہ سائٹس یہ ہیں۔ حیدری مارکیٹ بلاک Gنارتھ ناظم آباد کیاندرونی گلیاں، سید ہاشم رضا روڈ، سر سید روڈ، افزا اسٹریٹ، واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا کی اندرونی گلیاں، کراچی انستی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز، شیر علی تالپور روڈ، فتح باغ نارتھ ناظم آباد شاہراہ ہمایوں کی اندرونی گلیاں، جیو موبائل مارکیٹ یو پی موڑ کے سامنے کی پارکنگ، کریم آباد شاہراہ طیب احمد فلائی اوور تا عثمان آباد میموریل اسپتاک کے دونوں اطراف، سنگم گرائونڈ بچت بازار فیڈرل بی ایریا، کار بازار نیو کراچی۔۔

اس کے علاوہ ڈی ایم سی سینٹرل نی مذکورہ اشتہار میں پورے ضلع میں قائم پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں سے سے بھی وصولی کی فیس کا اندراج کیا جس کے تحت کار،، سوزوکی ہائی روف اور رکشون سے فی انٹری 20روپے، موٹر سائکل اور اسکوٹر سواروں سے فی انٹری10روپیہ، ٹویوٹا ڈاٹسن پک اپ فی انٹری 30روپیہ، مزدا کوچ فی انٹری 50 روپیہ اور بس و ٹرک فی انٹری 100روپیہ وسولی کا کہا گیا تھا۔

بلدیہ کی تاریخ میں ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ ککسی ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن نے عوام کو سہولیات دینے کے بجائے ان کا جینا دوبھر کردیا ہے اور مہنگائی کے ستائے ہوئے شہریوں اور چارجڈ پارکنگ کنٹریکٹرز کے عملے کے مابین ہاتھا پائی کے متعدد واقعات روزانہ کی بنیاد پر رونما ہورہے ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں معاملہ امن و امان کا پیدا ہوجائے۔

اس کے علاوہ، ڈسٹرکٹ سینٹرل جو کہ کراچی کا سب سے بڑا ضلع ہے کی انتظامیہ نے ہسپتال ، خریداری کے مراکز اور پارک بھی چارجڈ پارکنگ سے نتھی کردئیے ہیں جس سے شہریوں کی اکثریت نے افطار کے بعد ان پارکوں میں آنا بہت کم کردیا ہے۔اشتہار میں موٹر سائیکل کے لئے پارکنگ فیس 10 روپیہ جبکہ کار کے لئے 20 روپیہ لکھی گئے تھی تاہم گرائونڈ پر یہ فیس اسکوٹر کے لئے 20روپیہ جبکہ کار کے لئے 30اور کہیں تو 50روپیہ بھی وسول کی جارہی ہے۔

کے ایم سی کے ایک ڈائرکٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارکن قانون کے تحت کسی سی بھی پیٹرن یعنی سوار سے اسکوٹر یا کار پارکنگ کی مد میں جو فیس وسول کی جاتی ہے وہ 24گھنٹوں کے لئے ہوتی ہے ۔ اسی افسر نے یہ بھی بتایا کہ ڈی ایم سی سینٹرل سمیت کسی بھی ڈی ایم سی کی انتظامیہ نے مئیر کراچی،، سکریٹری بلدیا یا حکومت سندھ سے پارکنگ سائٹس کے ضمن میں کوئی باضابطہ اجازت نہیں لی ہے اور سڑکوں سے ملحقہ گلیوں، ہسپتالوں اورمحلے میں قائم پارکس پر قائم کی جانے والی پارکنگ سائٹس سراسر غیر قانونی ہیں جس کا سندھ حکومت کو نوٹس لینا چاہئیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی ایم سی سینٹرل نے ضلع وسطی میں گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں کو بھی نیلام کردیا ہے جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس حوالے سے جب ڈی ایم سی سینٹرل کے ڈائرکٹر چارجڈ پارکنگ سے بذریعہ فون کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے کال ریسیو نہیں کی اور جب بذریعہ میسج ان سے اس حوالے سے استفسار کیا گیا تو انھوں نے جواباً xxxxلکھ بھیجا۔

اسی طرح جب ڈی ایم سی سینٹرل کے چیئرمین ریحان ہاشمی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کسی جنازے میں شرکت کا کہہ کر کسی دوسرے وقت بات کرنے کا کہدیا۔ پارکنگ مافیا اس قدر منظم اور طاقتور ہے کہ عوام خواہ کچھ کرلیں انھیں منہ مانگی پارکنگ فیس ادا کرنا ہی ہوتی ہے اور عوام کا کوئی پسران حال نہیں ہے۔