سرفراز نے مخالفین اور ناقدین کو جواب ٹیم کی کارکردگی سے دیا، معین خان

سرفراز احمد سر جھکا کر ٹیم کو جتوارہے ہیں لیکن وہ ایک چالاک اور ذہین کپتان ہے جس نے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کو ایک اور بڑی فتح سے ہمکنار کرایا ہے،سابق کپتان کا انٹرویو

پیر مئی 20:38

سرفراز نے مخالفین اور ناقدین کو جواب ٹیم کی کارکردگی سے دیا، معین خان
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) سابق کپتان اور ماضی کے وکٹ کیپر معین خان نے کہا ہے کہ سرفراز احمد پر بعض لوگ غیر ضروری تنقید کرتے رہے لیکن اس نے اب مخالفین اور ناقدین کو جواب ٹیم کی کارکردگی سے دیا ہے۔قومی ٹیم کے لارڈز ٹیسٹ جیتنے پر معین خان کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ سرفراز احمد سر جھکا کر ٹیم کو جتوارہے ہیں لیکن وہ ایک چالاک اور ذہین کپتان ہے جس نے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ٹیم کو ایک اور بڑی فتح سے ہمکنار کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلا ٹیسٹ جیت کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میں جیت سے روکنا مشکل ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم میں نوجوان ٹیم کو گروم کرکے دانشمندی کی جارہی ہے، ہمارے ملک میں کچھ لوگ ہر بات میں منفی پہلو تلاش کرتے ہیں لیکن اب ہمیں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دے کر اچھی ٹیسٹ ٹیم تشکیل دینا ہوگی۔

(جاری ہے)

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد نے میرے ساتھ پی آئی اے میں کرکٹ کھیلی ہے اور وہ پاکستان سپر لیگ میں میری فرنچائز کوئٹہ کے کپتان بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد پر بعض لوگ غیر ضروری تنقید کرتے رہے لیکن اس نے اب مخالفین اور ناقدین کو جواب ٹیم کی کارکردگی سے دیا ہے، بلاشبہ لارڈز ٹیسٹ کی جیت کا کریڈٹ نوجوان کھلاڑیوں کو جاتا ہے ہر کھلاڑی نے زبردست کارکردگی دکھائی۔۔معین خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ سرفراز احمد کی اسکلز کی اس لیے تعریف کی اور اسے سپورٹ کیا کہ وہ اسٹریٹ اسمارٹ ہے، لارڈز ٹیسٹ میں بھی اس نے بہت اچھی کپتانی کی، ماضی میں کچھ کوچز سرفراز احمد کو نظر انداز کرتے رہے، آج وہ یقینی طور پر اپنی غلطی پر نادم ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑی دنیا کی مشکل ترین کنڈیشن میں اچھی کارکردگی دے رہے ہیں اس لیے نوجوانوں کو کھلانے کا فیصلہ درست ہے، اگر یہ لڑکے ان کنڈیشنز میں اس قسم کی کارکردگی دے سکتے ہیں تو دوسری کنڈیشنز ان کے لئے آسان ہوجائیں گی، اس لئے اب پرانے ناموں کے بجائے جونئیرز کو کھلانے کی پالیسی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔