غلطیوں کی بھر مار،ٹرمپ کی انگریزی پست درجے کی قرار

انگریزی کی استاد یوون میسن نے خط میںدرجنوں غلطیوں کی نشاندھی کر کے فیس بک پر پوسٹ کر دیا

پیر مئی 20:47

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) امریکا میں ریٹائرڈ انگلش ٹیچر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خط میں غلط انگریزی کی بھرمار پر انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انکی انگریزی کو پست درجے کی قرار دے دیا، انگریزی کی استاد یوون میسن نے ٹرمپ کے خط میں غلطیوں کی نشاندھی کر کے فیس بک پر پوسٹ کر دیا،املا کی ایسی غلطیاں ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہائی اسکول سے ریٹائرڈ ہونے والی انگریزی کی استاد یوون میسن نی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک خط میں انگریزی کی ہجے، طرز تحریر اور جملوں کی بناوٹ میں غلطیوں پر چراغ پا ہوگئیں۔ انگریزی کی ٹیچر نے ان اغلاط سے بھرے خط کو افسوسناک قرار دیا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق یوون میسن نے فلوریڈا کے ایک اسکول میں فائرنگ سے 17 افراد کی ہلاکت پر امریکی صدر کو خط لکھ کر لواحقین سے تعزیت کے لیے ان کے گھر جانے کا مطالبہ کیا تھا جس پر انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جوابی خط 3 مئی کو موصول ہوا۔

(جاری ہے)

خط میں گرامر، ہجے اور طرز تحریر میں درجن بھر غلطیاں دیکھ کر انگریزی ٹیچر استادوں کے روایتی غصے میں آگئیں اور غلطیوں کو مارک کر کے خط فیس بک پر پوسٹ کردیا۔انگریزی کی ٹیچر کا کہنا تھا خط کی غلطیوں کو دیکھتے ہوئے اسے سی یا ڈی گریڈ دیا جا سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ خط امریکی صدر کے کسی اسٹاف ممبر نے تحریر کیا ہو لیکن سرکاری سطح پر لکھے گئے کسی بھی خط میں اتنی سنگین غلطیوں کی گنجائش بالکل نہیں نکلتی چاہے اسے کسی نے بھی تحریر کیا ہو، ایسی غلطیوں سے اداروں کے وقار پر حرف آتا ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق اس معاملے پر موقف کے لیے وائٹ ہاس سے رابطہ کیا گیا تو ترجمان وائٹ ہاوس نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔