محکمہ اسکول ایجوکیشن میں سال2012ء میں کی گئی بھرتیاں اگر جعلی تھیں تو انہیں بہت پہلے نوکری پر آنے سے روکنا چاہیے تھا ،خواجہ اظہار الحسن

پیر مئی 21:28

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) متحد ہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں سال2012ء میں کی گئی بھرتیاں اگر جعلی تھیں تو انہیں بہت پہلے نوکری پر آنے سے روکنا چاہیے تھا ،،سندھ کے حکمران روزگار دینے پر فخر کر رہے ہیں تو پھر ان اساتذہ کو کیوں نکالا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں میری جانب سے اساتذہ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے حق میں آواز اٹھائے جانے کے بعد سے انکی مجھ سے امید یں وابستہ ہو گئی ہے ،،چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی سال2012ء کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے معاملے کا از خود نوٹس لیا ہوا ہے میں بھی اساتذہ کیلئے آواز اٹھاتا رہوں گا ۔

وہ پیر کو سندھ اسمبلی کے قریب سال2012ء میںبھرتی ہونیوالے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی جانب سے تنخواہوں کے اجراء کیلئے دیے گئے دھرنے میں احتجاجی اساتذہ کے مسائل سنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر نیو ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ابو بکر ابڑو اور ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ظہیر احمد بلوچ نے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کو بھرتیوں کی تفصیلات اور وزیر اعلی سندھ کی جانب سی21مئی کو سال2012کے اساتذہ کو بحال کرنے اور انہیں تنخواہیں جار ی کرنے کے حوالے سے جاری کئے گئے لیٹر سے آگاہ کیا ۔

اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے اساتذہ کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور سندھ اسمبلی میں ان کیلئے آواز اٹھانیکی بھی یقین دہانی کرائی ۔بعد ازاں متحد ہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ میں نے سندھ اسمبلی میں سال2012ء کے اساتذہ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر سول ہسپتال کے کنٹریکٹ ملازمین کا مسئلہ اٹھایا اس لئے سب کی امیدیں مجھ سے بند گئی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سال2012ء کے اساتذہ کے معاملے کا چیف جسٹس نے بھی از خود نوٹس لیا ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ روزگار جن لوگوں کو ملا ہے یہ ان کا قصور نہیں ہے ،اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ 6سال سے بغیر تنخواہ لئے نوکریاں کر رہے ہیں اور وہ چھٹی پر نہیں جا رہے کہ کہیں نوکری نہ چلی جائے انہیں یقین ہے کہ سرکاری نوکری ہے کبھی نہ کبھی مستقل ہو ہی جائے گی ،یہ لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیاں ہوئی تھیں تو وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی،ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نچلے گریڈ کے ملازم کو نوکری ملی ہے تو قواعد و ضوابط پورے کرنے کے حوالے سے سیکریٹری تو نہیں پوچھے گا ،6 سال تک کسی نے انہیں نوکری پر آنے سے کیوںنہیں روکا میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ جعلی بھرتیاں تھیں تو انہیں پہلے ہی روکنا چاہیے تھا لوگوں سے کام لیا گیا لیکن تنخواہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا آخری دن ہے اور میں آخری دن تک ان کی آواز اٹھاتا رہوں گا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے حکمران فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے نوکریاں دی ہیں لیکن اسکے باوجود لوگوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے پیپلز پارٹی کے اپنے بیانات سوالیہ نشان ہیں۔