آئندہ مالی سال کا بجٹ حقیقت پسندانہ ہونا چاہئے جس میں ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جائے،میئر کراچی

پیر مئی 21:28

آئندہ مالی سال کا بجٹ حقیقت پسندانہ ہونا چاہئے جس میں ترقیاتی منصوبوں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا آئندہ مالی سال کا بجٹ حقیقت پسندانہ ہونا چاہئے جس میں ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور غیرترقیاتی اخراجات کم سے کم رکھے جائیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تقریباً ساڑھے 13ہزار ملازمین اور تقریباً ایک ہزار کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے لئے حکومت سندھ سے ملنے والی OZT گرانٹ کی مد میں ہر ماہ تقریباً 7 کروڑ روپے شارٹ فال کا سامنا ہے، مالی وسائل کی کمی کے باوجود 2018-19 ء کے لئے ایک متوازن بجٹ بنائیں گے، محکمہ فنانس جلد از جلد تمام محکموں سے موصولہ بجٹ تجاویز کی روشنی میں بجٹ کو حتمی شکل دے تاکہ مقررہ وقت پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کا بجٹ پیش کیا جاسکے، یہ بات انہوں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی، چیئرمین اراضیات کمیٹی سید ارشد حسن، چیئرمین مالیات کمیٹی ندیم ہدایت ہاشمی، میئر کراچی کے مشیر فرحت خان، مشیر مالیات ڈاکٹر اصغر عباس شیخ ، سینئر ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس ریحان خان، ڈائریکٹر بجٹ محمود بیگ اور دیگر افسران بھی موجود تھے، اجلاس کے دوران بجٹ کی تیاری کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ریونیو کے ذرائع اور مختلف مدات میں ہونے والے اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس کے علاوہ سالانہ اے ڈی پی پروجیکٹس خاص طور پر محکمہ انجینئرنگ سے متعلق منصوبوں کی تیاری اور ان پر عملدرآمد کی صورتحال پر غور کیا گیا، اجلاس کے دوران میئر کراچی نے افسران پر زور دیا کہ مالی سال کے اختتام سے قبل مختلف محکموں کو دیئے گئے ریونیو کے اہداف کا حصول ممکن بنایا جائے اور جس محکمے سے جتنا ریونیو حاصل ہوا ہے اس کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے ریونیو ہدف مقرر کیا جائے، انہوں نے کہا کہ بجٹ کو محض اعداد و شمار کا ٹیبل بنانے کے بجائے ہرممکن کوشش کی جائے کہ یہ حقیقت سے قریب تر ہو اور شہر کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے، کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوں اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل دستیاب ہوں ، اس مقصد کے تحت ایک جامع اور موثر حکمت عملی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے کیونکہ ہم سب کا اولین مقصد کراچی میں شہریوں کو فراہم کی جانے والی بلدیاتی سہولیات کو بہتر بنانا اور شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر کو ترقی دینا ہے، میئر کراچی وسیم اختر نے اس موقع پر مشیر مالیات کی طرف سے پیش کی گئیں بجٹ تجاویزکا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال کے لئے پیش کئے جانے والے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ کا حصہ بڑھایا جائے اور غیرضروری اخراجات میں کمی کی جائے جبکہ ریونیو ریکوری کا مقررہ ہدف ہر صورت میں پورا ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ کی تیاری میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ بجٹ میں دکھایا گیا آمدنی کا ہدف حقیقت پسندانہ ہونا چاہئے جبکہ غیرترقیاتی مدات کے مقابلے میں ترقیاتی مدات زیادہ ہونی چاہئیں کیونکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لئے ترقیاتی کاموں پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے خواہ ان کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہی کیوں نہ ہوان کی طرف سے پیش کی گئی تمام جائز تجاویز اور مشوروں کی روشنی میں بجٹ کو حتمی شکل دی جائے گی ، انہو ںنے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لئے غیرضروری اخراجات سے گریز کرتے ہوئے آمدنی کے مختلف اہداف کو ہر صورت حاصل کرنے پر توجہ دی جارہی ہے جس کے لئے ریکوری سے متعلق محکموں کو فعال بنانا ضروری ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔