پشاور کی صحافتی برادری کا جے یو آئی ف کی ہر قسم کی سرگرمیوں کا مکمل بائیکاٹ کااعلان

پیر مئی 19:10

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداران اور سینئر صحافیوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے سامنے جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی میڈیا پر حملے ،ذرائع ابلاغ کے اداروں کی گاڑیوں،کیمروں اور صحافیوں کونشانہ بنانے کو اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی غنڈہ گردی اور دہشتگردی قرار دیا اور اس کی پرزور مذمت کی گئی۔

اجلاس میں پولیس کی جانب سے ذرائع ابلاغ کی گاڑیوں اور پیشہ ورانہ فرائض سر انجام دینے والے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی اور یکسرلا تعلقی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو بھی اس واقعے کے برابر شریک قرار دیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس واقعے کی دہشتگردی کے دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے گی ۔ فیصلہ کیاگیا کہ پشاور کی صحافتی برادری جے یو آئی ف کی ہر قسم کی سرگرمیوں کا مکمل بائیکاٹ کرے گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس وقت تک صحافتی برادری اپنے فیصلوں پر نظرثانی نہیں کرے گی جب تک مولانا فصل الرحمن بذات خود اس واقعے پر معافی کے لئے پشاور پریس کلب نہیں ا ٓتے اور صحافیوں کی عزت نفس کی بحالی اور جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار نہیں کرتے اور اس کے ازالے کے لئے اقدامات نہیں کرتے ۔اجلاس میں گزشتہ روز صحافیوں کو تشدد اور بربریت کا نشانہ بنانے والے واقعے پر افسوس کے اظہار اور مکمل یکجہتی کے اظہار پر سی پی این ای کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ اگر ان فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا توصحافی ہر سطح پر احتجاج اور دیگر اقدامات کے حق کا استعمال کرسکتی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے جلد اجلاس طلب کیا جائے گا ۔