صوبائی خودمختاری کا حصول شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے، میاں افتخار حسین

پیر مئی 19:10

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ماحول میں اے این پی نے جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا انمٹ باب ہیں اور عدم تشدد کے فلسفے اور اپنے شہداء اور اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ قیام امن کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ، 28مئی 1930یوم شہدائے ٹکر پر اپنے پیغام میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کی تحریک قربانیوں کی تحریک ہے اور ہر سال ماہ اور ہر دن ہمارے اسلاف کی قربانیوں سے بھرے پڑے ہیں ، انہوں نے کہا کہ آج جو دہشت گردی کا ماحول ہے اس کے خلاف جدوجہد میں ہمارے 850سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کا خون شامل ہے ، اور امن کی خاطر باچا خان بابا کے پیروکار جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ 28مئی 1930پختونوں کی تاریخ کا ایک اور خوش آشام دن تھا یہ روز سیاہ نہ صرف ٹکر (تحصیل تخت ،ضلع مردان ) کے باشندے بلکہ ان کے خیرخواہ جہاں کہیں بھی ہوں، غم واندوہ کی یادوں کے ساتھ مناتے ہیں اور 28مئی 1930ء کو انگریزوں کے ہاتھوں شہید نہتے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

23اپریل 1930ء کو قصہ خوانی بازار میں ایک خون آشام واقعہ پیش آیاتھا ، جس میں برطانوی محافظ دستوں کے ہاتھوں احتجاجی جلوس میں شامل100افراد جام شہادت نوش کرچکے تھے۔جس کے بعد فرنگی نے ٹکر کے میدان میں ایک بار پھر خدائی خدمت گاروں کے خون کی ہولی کھیلی ، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے شہدا اور اسلاف کے نقش قدم کو اپنا شعار بنایا اور اس کی روشنی میں صوبائی خود مختاری اور 18ویں ترمیم کے حصول کے بعد آخر کار انگریز کی لکیر سے بھی نجات حاصل کی اور ان تمام کامیابیوں پر شہدائے کی روحوں کو تسکین ملے گی ، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کئے بغیر ان کے بتائے رستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہیں گے ۔