سعودی عرب سے اہم ترین خبر،سعودی ولی عہد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی

میڈیا پر جاری کی گئی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی تصاویر پرانی ہیں، سابق ولی ولی عہد محمد بن نائف نے بھانڈا پھوڑ دیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر مئی 19:12

سعودی عرب سے اہم ترین خبر،سعودی ولی عہد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی
ریاض (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28مئی 2018ء) سعودی عرب سے اہم ترین خبر،،سعودی ولی عہد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ میڈیا پر جاری کی گئی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی تصاویر پرانی ہیں، سابق ولی ولی عہد محمد بن نائف نے بھانڈا پھوڑ دیا۔تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل ایرانی و روسی میڈیا کا دعوی ہے کہ محمد بن سلمان گزشتہ تین ہفتوں سے منظر عام سے غائب ہیں۔

گزشتہ ماہ 21 اپریل کو ریاض میں سعودی شاہی محل پر مبینہ حملہ ہوا تھا۔ 21 اپریل کو سعودی شاہی محل پر ہونے والے مبینہ حملے میں سعودی ولی عہد یا تو شدید زخمی ہوئے یا ہلاک ہوگئے تھے۔ جب سے سعودی شاہی محل پر مبینہ حملہ ہوا ہے، اس روز کے بعد سے سعودی ولی عہد منظر عام پر نہیں آئے۔ اس لیے بظاہر یہی لگتا ہے کہ یا تو ان کی موت واقع ہوگئی ہے، یا وہ شدید زخمی حالت میں ہیں۔

(جاری ہے)

روسی اور ایرانی میڈیا پر چلنے والی خبروں میں مزید دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 21 اپریل کو سعودی شاہی محل پر ہونے والا مبینہ حملہ دراصل سعودی شاہی خاندان کے ہی باغی افراد کی جانب سے کی جانے والی بغاوت تھی۔تا ہم کچھ روز پہلے سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے سعودی علی عہد محمد بن سلمان کی تازہ ترین تصویر جاری کی گئی۔ تصویر مصری صدر کی جانب سے دی جانے والی خصوصی دعوت کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جاری کی گئی تصویر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ذاتی دفتر کے نگران بدر العساکر نے شہزادہ محمد، ابوظہبی کے ولی عہد شیخ مححمد بن زاید آل نھیان، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی ایک غیر رسمی ملاقات میں بنائی۔اس تصویر کے منظر عام پر آتے ہی سعودی ولی عہد کے زخمی ہونے یا انتقال کی خبریں دم توڑ گئیں۔

تاہم تازہ ترین خبر کے مطابق سعودی ولی عہد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی۔سابق ولی ولی عہد محمد بن نائف نے بھانڈا پھوڑتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 21 اپریل سعودی محل کے باہر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان زخمی ہو گئے تھے۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ محمد بن سلمان کہ جاری کردہ تصاویر پرانی ہیں۔اس کے علاوہ سعودی ولی عہد زخمی تو ہیں لیکن ان کے زخم جان لیوا نہیں بلکہ وہ تیزی سے روبہ صحت ہو رہے ہیں۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کی جانب سے اس سارے واقعے کو چھپانا اور اسکو دوسرا رنگ دینا خا صا معنی خیز قرار دیا جارہا ہے۔