سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 14 ادارے ہیں جن میں سے دس اداروں کے سربراہ کام کررہے ہیں، راجہ جاوید اخلاص

الیکشن کمیشن کی طرف سے پابندی کی وجہ سے ان اداروں کے سربراہ تعینات نہیں کئے جاسکے، قومی اسمبلی اجلاس میں نعیمہ کشور کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اظہار خیال

پیر مئی 22:32

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پارلیمانی سیکرٹری راجہ اخلاص نے کہا ہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 14 ادارے ہیں جن میں سے دس اداروں کے سربراہ کام کررہے ہیں اور باقی چار کیلئے بھی اخبارات میں اشتہار دیا گیا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے پابندی کی وجہ سے ان اداروں کے سربراہ تعینات نہیں کئے جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشورکی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اداروں کے سربراہ چار سال کیلئے تعینات کیا جاتا ہے بورڈ آف گورنرز اس میں ایک سال کی توسیح کر سکتا ہے۔ اداروں کے سربراہوں کے متعلق اداروں کے ایکس آرڈیننس کے سروس قواعد اور اداروں کے سربراہ کیلئے دی گئی مقررہ اہلیت کے مطابق تعینات کئے جاتے ہیں عملہ ڈویژن سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد نمایاں اخبارات میں اداروں کے سربراہان کی آسامیوں کو مشتہر کرنے کے معیار کے مطابق مشتہر کرتے ہوئے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں اور اس حوالے سے کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں تاکہ امیدواروں کی چھانٹی کرکے فہرست بنائی جاسکے پھر امیدواروں کے سلیکشن بورد کی طرف سے انٹرویو کیلئے بلایا جا تاہے۔

(جاری ہے)

اس کے بعد معیار پر پورا اترنے والے امیدواروں کی تقرری کی جاتی ہے۔