قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں تقریباً آدھ گھنٹہ تک تاخیر سے شروع ہوا ‘ کورم کی نشاندہی پر اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی

پیر مئی 22:32

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں تقریباً آدھ گھنٹہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں تقریباً آدھ گھنٹہ تک تاخیر سے شروع ہوا ‘ نعت اور تلاوت کے بعد توجہ مبذول نوٹس رکن اسمبلی نگہت پروین میر کی طرف سے پیش کیا گیا کہ اسلام آباد کے ماڈل کالجوں اور سکولوں کے عارضی اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر و پارلیمانی امور شیخ آفتاب سے کہا کہ جی اس کے جواب دیں شیخ آفتاب نے کہا کہ مجھے اس حوالے سے کوئی علم نہیں ہے۔

میں سیکرٹری کیڈ سے بات کرنے کے بعد کل اس کا جواب دوں گا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب سپیکر قومی اسمبلی نے مزید نظام کار پر بات کرنا چاہی تو تحریک انصاف کی رہنماء ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ نظام کار پر بات نہیں کی جائے گی۔

(جاری ہے)

اگر کسی نے نقطہ اعتراض پر بات کرنی ہے تو کرلے اس پر سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ پہلے نظام کار مکمل کرلیں تو بعد میں نطقہ اعتراض پر بات کریں گے جس پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ میں ایسے نہیں چلنے دوں گی اگر آپ ایسا کریں گے تو میں کورم کی نشاندہی کرتی ہوں جس پر انہوں نے کورم کی نشاندہی کردی تو سپیکر ایاز صادق نے گنتی کروانے کا حکم دیا گنتی ہونے کے بعد کورم نہ پورا ہونے کی وجہ سے سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج منگل گیارہ بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔