قبائلی خواتین کی جانب سے بنائے گئے خور تنظیم نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں انضمام کا خیرمقدم

پیر مئی 22:33

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) قبائلی خواتین کی جانب سے بنائے گئے خور تنظیم نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں انضمام کا خیرمقدم اور خوشی کی امید ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ قبائلی خواتین کو بااختیار بنانے اور فیصلہ سازی میںحصہ دینے کیلئے بلدیاتی ، صوبائی اور قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں دی جائے ۔گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تنظیم کے صدر نوشین جمال، جنرل سیکرٹری سکینہ مہمند، شاہدہ شاہ، ڈاکٹر نورین ناصر اور دیگر کا کہنا تھا کہ خور تنظیم فاٹا کو خیبرپختونخوا میں انضمام کا خیرمقدم کرتے ہیںاور اس عمل میں کوشش کرنے والے ہر طبقہ کو مبارک باد اوران کی جرت کو سلام پیش کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ایک فطری عمل تھا جس کا ہونا لازمی تھا کیونکہ اس کے بغیر آئینی حقوق اور قوانین کا اطلاق ناممکن تھے انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 247میں ترمیم کرکے پشاور ہائی کورٹ اور لوئر کورٹ کا دائر اختیار قبائلی علاقوں کو بڑھا دی گئی جس کی وجہ سے خواتین کی طرف سے غیر اسلامی اور غیر آئینی رویے بھی ختم ہوجائی گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کو زیادہ تر مشکلات درپیش ہیں جس کیلئے بلدیاتی انتخابات میں نمائندگی دی جائے تاکہ وہ اپنے لئے خود مسائل حل کرسکیں انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں انصاف پانے کیلئے قبائلی خوتین کو اسان طریقہ کار واضح کیا جائے تاکہ قبائلی خواتین آسانی کے ساتھ اپنے لئے انصاف حاصل کر سکیںانہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی،، صوبائی اور قومی اسمبلی میں قبائلی خواتین کو مخصوص نشستیں دی جائے۔