سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش

حاضر سروس لیفٹننٹ جنرل کی سربراہی میں کورٹ آف انکوائری قائم کرنے کا حکم دیا ہے‘کمیٹی پورے معاملات کی تحقیقات کرےگی۔میجرجنرل آصف غفور

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 19:58

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 مئی۔2018ء) سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست دے دی گئی، اسد درانی سے متعلق عدالتی تحقیقات کی جائیں گی۔تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے حکم پر سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کو ان کی کتاب کے سلسلے میں آج جی ایچ کیو طلب کیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ریٹائرڈ اسد درانی سے متعلق عدالتی تحقیقات لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں کی جائیں گی، سابق ڈی جی آئی ایس آئی اس سلسلے میں جی ایچ کیو میں پیش ہوچکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جی ایچ کیو میں ان سے وضاحت طلب کی گئی۔

(جاری ہے)

اسد درانی سے جی ایچ کیو میں وضاحت طلب کیے جانے کے بعد فوری ایکشن لیا گیا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے درخواست دے دی گئی۔

جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب میں بیان کردہ متعدد موضوعات حقائق کے برعکس ہیں، اپنی کتاب میں انھوں نے ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جنرل(ر) اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کردی ہے۔ترجمان پاکستان فوج نے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں بتایا ہے کہ اسد درانی ریٹائرڈ جی ایچ کیو میں پیش ہوئے اور کتاب پراپنی پوزیشن واضح کی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ حاضر سروس لیفٹننٹ جنرل کی سربراہی میں کورٹ آف انکوائری قائم کرنے کا حکم دیا ہے‘کمیٹی پورے معاملات کی تحقیقات کرےگی۔واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی اگست 1990 سے مارچ 1992 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے ہیں جنہوں نے سابق را چیف اے ایس دلت کے ساتھ مل کر ایک کتاب”دی اسپائے کرونیکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس“ لکھی ہے۔