بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کیا جائے۔سیدعلی گیلانی

بھارتی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، نام نہاد سرچ آپریشن میں 5کشمیریوں کو شہید کردیا گیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مئی 20:08

بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم ..
سری نگر(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 مئی۔2018ء) کشمیری حریت قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کیا جائے۔۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے حیدر پورہ میں اپنی رہائش گاہ پر تقریب سے خطاب میں کشمیری راہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری قیادت کی جانب سے دیئے گئے پانچ نکات ہی بات چیت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان 5 نکات میں کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرنا، فوج کی واپسی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور کالے قوانین کے خاتمے جیسے اقدامات شامل ہیں۔سید علی گیلانی نے کہا کہ اس سے قبل بھی مذاکرات کے ڈیڑھ سو ادوار ہو چکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، اس موقع پر حریت راہنما یاسین ملک کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو خوفزدہ کر کے ان کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگر فوجی طاقت سے عوامی جدوجہد کو دبایا جاسکتا تو آج کسی قوم کو آزادی نہ ملی ہوتی۔دوسری جانب مقبوضہ وادی آج پھر لہو لہوہوگیا،،بھارتی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، نام نہاد سرچ آپریشن میں 5کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔۔بھارتی سرکار کی ہٹ دھرمی برقرار ہے،رمضان میں مقبوضہ کشمیر میں آپریشن نہ کرنے کے اعلان کی خلاف ورزی کردی ،قابض فوج نے ضلع کپواڑہ میں 5کشمیریوں کو شہید کردیا۔

کپواڑہ میں بھارتی فوج کا نام نہاد سرچ آپریشن جاری ہے ،جس سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنائی جارہی ہے۔گزشتہ روز سری نگر میں نماز جمعہ کے بعد کشمیریوں کی پرامن ریلی کو بھی بھارتی فوج نے پرتشدد بنایا۔کشمیریوں پر آنسو گیس شیلنگ اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا،جس سے درجنوں کشمیری زخمی ہوئے۔سید علی گیلانی نے کہا کہ اس سے قبل بھی مذاکرات کے ڈیڑھ سو ادوار ہو چکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، اس موقع پر حریت راہنما یاسین ملک کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو خوفزدہ کر کے ان کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر فوجی طاقت سے عوامی جدوجہد کو دبایا جاسکتا تو آج کسی قوم کو آزادی نہ ملی ہوتی۔