یورپی سیاح کا ہوٹل کا بھاری بِل ادا کرنے کیلئے جعلی کریڈت کارڈکا استعمال

سیاح نے ہوٹل میں لگژری سُوئٹ کا ایک لاکھ تیس ہزار اماراتی درہم کا بِل ادا کیا

muhammad ali محمد علی پیر مئی 20:12

دوبئی: (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 28 مئی 2018ء) دبئی پولیس نے ایک یورپی سیاح کو لگژری ہوٹل کے سوئٹ کا ایک لاکھ تیس ہزار اماراتی درہم کا بل جعلی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادا کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ بریگیڈیئر سالم ال رُومیدی‘ ڈائریکٹر آف دی جنرل ڈیپارٹمنٹ کریمنل اینڈ انویسٹی گیشن آف دُبئی پولیس نے بتایا کہ جب ہوٹل انتظامیہ پر انکشاف ہوا کہ یورپی سیاح کی جانب سے ہوٹل کا لگژری سُوئٹ کا بل ادا کرنے کے لیے جعلی کریڈٹ کارڈ استعمال کیا گیا ہے تو دُوبئی پولیس کو فوراً اس دھوکا دہی کی اطلاع کی گئی۔

”اُس نے ایک لاکھ تیس ہزار اماراتی درہم کے بدلے میں دو دِن کے لیے سُوئٹ بُک کروایا مگر صرف ایک رات قیام کرنے کے بعد ہوٹل چھوڑ دیا۔ ہوٹل نے کریڈ ٹ کارڈ کے جعلی ہونے کا پتا چلنے پر سیاح کے خلاف کیس درج کروا دیا۔

(جاری ہے)

“ بریگیڈیئر ال رُومیدی نے بتایا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ یورپی سیاح ہوٹل انتظامیہ کو وقتی طور پر بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو گیا کیونکہ کسی کریڈٹ کارڈ کے اصلی یا جعلی ہونے کا فوری طور پر پتا لگانا خاصا مشکل تھا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی دوبئی پولیس کی ایک ٹیم نے سیاح کاکھوج لگا کر اُسے اُس وقت گرفتار کر لیا جب وہ مُلک چھوڑنے ہی والا تھا۔ ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کر لیا کہ اُس نے ہوٹل کا کمرہ بُک کروانے کے لیے جعلی کریڈٹ کارڈ کا استعمال کیا ہے جس پر اسے مزید تفتیش کے لیے دُبئی پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔ دُبئی پولیس نے کاروباری افراد اور عوام کو تاکید کی ہے کہ وہ پولیس کو ایسے گھپلوں کے متعلق فوری اطلاع کریں تاکہ ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد کو مُلک چھوڑنے سے قبل ہی گرفتار کیا جا سکے۔

”ہم سنٹرل بینک کے ساتھ مکمل رابطے میں رہتے ہیں تاکہ بروقت حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اپنا کر کریڈٹ کارڈ کے صارفین کو فراڈ سے بچا سکیں۔ کریڈٹ کارڈ سے رقم کی منتقلی کے وقت کارڈ ہولڈر کی شناخت چیک کرنا لازمی ہے۔“بریگیڈیئر ال رُومیدی نے مزید کہا۔ اُنہوں نے کہا کہ کریڈٹ کارڈ فراڈ کا پتا لگانے میں سب سے بڑی دُشواری یہ ہے کہ جعلی اور اصلی کارڈ میں فرق کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوان :