پولیس سارجنٹ کو اختیارات کے ناجائزاستعمال پرسزا

آن لائن جعلسازی اور رشوت لینے کے الزام پرملزم کو چار لاکھ اڑتالیس ہزار اماراتی درہم کا جُرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا

muhammad ali محمد علی پیر مئی 20:13

پولیس سارجنٹ کو اختیارات کے ناجائزاستعمال پرسزا
دُبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 28 مئی 2018ء) پولیس سارجنٹ کو اختیارات کے غلط استعمال اور محکمے کی تین لاکھ چوبیس ہزاراماراتی درہم کی رقم خُرد بُرد کرنے کے الزام میں ایک سال قید کے ساتھ ساتھ چار لاکھ اڑتالیس ہزار اماراتی درہم جُرمانے کی سزا سُنائی گئی ہے۔ مُلزم دُبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات تھا۔تفصیلات کے مطابق اماراتی شہری‘ جو کہ فارن افیئرز اور ریزیڈنسی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کا ملازم تھا اور دُبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا‘ اُسے محکمے کی جانب سے مختلف رقوم کی آن لائن منتقلی‘ ٹریول پرمٹس ایشو کرنے‘ رہائشی سہولت کی منسوخی‘ مفروری کی رپورٹس کی بناء پرسفری پابندی ختم کرنے ‘ غیر قانونی ملازموں اور شہریوں سے جرمانہ اکٹھا کرنے‘ مملکت میں خروج اور دخول کی فیس اکٹھی کرنے اور آنکھ کی پُتلی سکین کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

(جاری ہے)

ملزم نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 68 محکمانہ آن لائن ٹرانزیکشن کی مد میں اِکٹھی ہونے والی دولاکھ اکہتر ہزار اماراتی درہم کی رقم خُرد بُرد کر دی۔ اس مقصد کے لیے اُس نے اپنے آن لائن لاگِن کا غلط استعمال کرتے ہوئے محکمے کے ای سسٹم تک رسائی حاصل کی اور پھر درجنوں ٹرانزیکشن کا جعلی اندراج کر اصل رقم اپنے پاس رکھ لی۔ ملزم لوگوں کو ایئرپورٹ پر واقع بینک کی برانچ میں فیس جمع کروانے کی ہدایت کرنے کی بجائے براہِ راست اپنے پاس رکھ لیتا تھا۔

اُس نے مفروری کی رپورٹس‘ ڈی پورٹیشن فیس اور لسٹ سپانسر کی مد میں اکٹھے کیے گئے 53 ہزار اماراتی درہم کی رقم کا بھی غبن کیا۔ اتوار کے روز مقدمے کی کارروائی کے دوران‘ مقامی عدالت نے سارجنٹ جو کہ اماراتی شہری ہے‘ کو جیل بھیجنے کے ساتھ چار لاکھ اڑتالیس ہزار اماراتی درہم کا جرمانہ کیا اور محکمے کی خُرد بُرد کی گئی تین لاکھ اٹھارہ ہزار کی رقم بھی واپس جمع کروانے کا حکم جاری کیا۔

ابتدائی فیصلے کے مطابق‘ جج فہد ال شمسی نے اس مقدمے میں ایک مصری تاجر کو بھی ایک سال قید کی سزا سُنائی۔ تاجر نے مذکورہ پولیس سارجنٹ کو رشوت دے کر بدلے میں ایک لاکھ چار ہزار اماراتی درہم کی جعلی رسیدحاصل کی تھی۔ اس غیر قانونی عمل کی بدولت مصری تاجر کوایک تجارتی کمپنی کے بزنس پارٹنر کی حیثیت سے دُبئی سے خروج اور دوبارہ داخلے کا اختیار مل گیا۔

فاضل جج نے مصری تاجر کو ایک لاکھ چوبیس ہزار اماراتی درہم کا جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ چودہ ہزار درہم کی رقم GDRFA کو جمع کروانے کا حُکم بھی جاری کیا۔ مصری تاجر کو اپنی سزا پُوری کرنے کے بعد عرب امارات سے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ تفتیش کے مطابق سابقہ سارجنٹ نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے‘ ٹرانزیکشن میں جعلسازی کی اور متعدد بار رشوت وصول کی۔

مصری تاجر نے بھی رشوت کے ذریعے پولیس سارجنٹ سے آن لائن جعلسازی کروائی۔۔عدالت میں دونوں دونوں اشخاص نے اپنے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ عدالت میں استغاثہ کی جانب سے پیش کئے گئے ایک فلسطینی گواہ نے تصدیق کی کہ اُس نے اپنی نوکرانی کے لیے رہائشی سہولت کی فیس بھرنے کے لیے ایئرپورٹ پر واقع جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارن افیئرز(GDRFA) کے آفس کا دورہ کیا تھا۔

فلسطینی کے مطابق ”’میں جب اُس کاؤنٹر پر پہنچا جہاں ملزم سارجنٹ تعینات تھا‘ تو اُس نے مجھ سے کہا کہ مجھے فیس کیش میں ادا کرے اور تھوڑی دیر انتظار کرنے کا کہا۔ میں نے انتظار کے دوران متعلقہ محکمے میں اپنے جاننے والے ایک شخص سے فون پر رابطہ کیا تو اُس نے کہا کہ وہ اُس سے مِلے تاکہ پولیس سارجنٹ کے مشکوک طرزِ عمل کے بارے میں تفصیل سے جان سکے۔

میں اپنے متعلقہ ساتھی سے ملنے گیا‘ ساری تفصیل جاننے کے بعد انہوں نے مجھے اس بات پر تعاون کے لیے آمادہ کر لیا کہ میں ملزم سارجنٹ کے خلاف سٹِنگ آپریشن میں اُن کا ساتھ دُوں۔“ فلسطینی نے بتایا۔مزید تفتیش سے ظاہر ہوا کہ ملزم نے مصری تاجر سے اس بات کے لیے رشوت لی کہ وہ GDRFA سسٹم میں جعلی اندراج کردے گا کہ تاجر نے رہائشی فیس کا جُرمانہ ادا کر دیا ہے جو کہ حقیقت میں ادا نہیں کیا گیا تھا۔ ملزمان کو اس فیصلے کے خلاف 15 دِن کے اندر اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔