کراچی، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے لئے گئے قرضوں پر بھاری سود کی ادائیگی موجودہ حکومت کی بدترین نااہلی ہے، الطاف شکور

حکمران عوام کو قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا کر اب راہ فرار اختیار کررہے ہیں ،1947سے 2013تک 65برسوں میں سابقہ حکومتوں نے 40ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لئے جبکہ موجودہ نواز شریف حکومت نے 50ارب ڈالر کے قرضے لیکر ہر شہری کو لاکھوں روپے کا مقروض بنالیا ہے،صدر پاسبان پاکستان

پیر مئی 22:46

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے کہا ہے کہ بھاری مالیت کے بیرونی قرضوں ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے لئے گئے قرضوں پر بھاری سود کی ادائیگی موجودہ حکومت کی بدترین نااہلی ہے ۔حکمران عوام کو قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا کر اب راہ فرار اختیار کررہے ہیں ۔1947سے 2013تک 65برسوں میں سابقہ حکومتوں نے 40ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لئے جبکہ موجودہ نواز شریف حکومت نے 50ارب ڈالر کے قرضے لیکر ہر شہری کو لاکھوں روپے کا مقروض بنالیا ہے ۔

قرض اتارو ملک سنواروکے نام پر کھربوں روپے کی جمع کردہ رقم کہاں گئی پاکستان کے گردشی قرضے بھی ایک کھرب روپے تک جا پہنچے ہیں مگر حکمران ملکی خزانے سے چوری شدہ دولت واپس کرنے کو تیار نہیں ۔پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے کہا کہ حکومتی اداروں نے اپنے وسائل میں اضافہ اور مزید آمدنی پیدا کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ غیر ملکی قرضوں پر انحصار کیا ہے جو ملکی معیشت اور قوم کے مستقبل کے لئے تباہ کن ہے ۔

(جاری ہے)

غیر ملکی قرضوں سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ زیادہ تر حکمرانوں کی سہولتوں اور عیاشیوں میں خرچ ہوتے ہیں ۔عوام پران بھاری قرضوں کی ایک پائی بھی خرچ نہیں کی گئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں 44ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے باوجود عام آدمی کی معاشی حالت میں کوئی بہتر ی نہیں آئی ۔ الطاف شکور نے کہا کہ ملک کی معیشت بڑے شہروں کی ترقی سے پیوستہ ہے ۔

کراچی اور لاہور دونوں ملک کے بڑے میگا سٹی ہیں لیکن جدید شہری ترقی کے لحاظ سے کراچی کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے ۔ کراچی اور سندھ کے دیگر بڑے شہر بدعنوانی اور لوٹ مار کلچر کی وجہ سے موہنجو ڈرو کا منظر پیش کررہے ہیں ۔پاسبان نے کراچی شہر کو میگا سٹی کا آئینی درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے، اس کے لئے آئینی ترمیم ضروری ہے لیکن وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی سے لبالب بھری ہوئی سیاسی جماعتوں کو عوام کے مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔

کراچی میں عوام کے پاس نہ تو بنیادی حقوق ہیں اور نہ ہی تعلیم ،صحت ،ٹرانسپورٹ ،سڑکیں اور بجلی و پانی کی سہولتیں ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کراچی میں پاسبان نے ایک بہت بڑی میگا سٹی ریلی نکالی جس پر اہل کراچی مبارکباد کے مستحق ہیں ،پاسبان کراچی کومیگاسٹی کے آئینی حقوق دلانے کے لئے آواز بلند کررہی ہے اور یہی ہمارا انتخابی نعرہ ہے ۔

الطاف شکور نے کہا کہ پنجاب کے حکمرانوں نے لاہور کو اپ گریڈ کیا ہے ،،لاہور کے شہری اورنج و ٹرین سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ سندھ حکومت ابھی تک کراچی سرکولر ریلوے کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری ختم کرنے کے لئے دہلی ،،ممبئی صنعتی کوریڈور کی شکل پر کراچی ،حیدرآباد اقتصادی کوریڈور بنایا جائے ،،کراچی سے کیٹی بندر تک بڑی سڑک تعمیر کی جائے ۔ حکومت ٹھوس کار کردگی دکھاتی تو صوبہ سندھ میں کوئی بھی شخص بے روزگا نہ رہتا۔۔کراچی کے ہر بڑے ٹائون میں کم سے کم ایک یونیورسٹی اور ایک تدریسی ہسپتال ہونا چاہئے ۔ میگا سٹی کے قیام سے نہ صرف کراچی کے شہریوں کی بہترین خدمت ہوسکے گی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا ۔#