نوجوان ساٹھ فیصد اکثریتی اور طاقتور طبقہ ہونے کے باوجود نظر انداز ہے،سینیٹر مشتاق احمد خان

پیر مئی 22:51

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ نوجوان ساٹھ فیصد اکثریتی اور طاقتور طبقہ ہونے کے باوجود نظر انداز ہے۔ سیاسی جماعتوں نے نوجوانوں کو نظر انداز کردیا ہے، سیاسی جماعتوں پر چند موروثی خاندانوں کا قبضہ ہے۔ جاگیردارانہ سیاسی جماعتیں نوجوانوں کے راستے میں رکاؤٹ بنی ہوئی ہیں۔

تعلیم،، روزگار اور کھیل کی سہولیات تک رسائی نوجوانوں کا بنیادی حق ہے۔ حکمران اور سیاسی جماعتیں یہ حق دینے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ جماعت اسلامی نے نوجوانوں کے لئے انقلابی منشور دیا ہے۔ ہر نوجوان تعلیم یافتہ ہو یا انپڑھ ان کے لئے روزگار ہوگا، ہر یونین کونسل کی سطح پر کھیل کی سہولیات ہوں گی اور نوجوانوں کو قومی سیاست میں بھر پور کردار ادا کرنے کے لئے دروازے کھلے ہوں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی پشاور میں جے آئی یوتھ کے صوبائی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر عبدالغفار، جنرل سیکرٹری یوسف علی مشوانی، نائب صدور حافظ حمیداللہ اور ملک امان اللہ، سیکرٹری اطلاعات محمد نعیم عیسکی اور اضلاع کے صدور و جنرل سیکرٹریز نے شریک تھے۔ اجلاس میں جے آئی یوتھ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور الیکشن 2018ء سمیت دیگر سرگرمیوں کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی گئی۔

اجلاس سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ جے آئی یوتھ نے تھوڑے وقت میں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں، جے آئی یوتھ وقتی ضرورت کے لئے نہیں بلکہ دائمی تبدیلی اور انقلاب کے بنائی گئی ہے۔ جے آئی یوتھ نے مثبت سرگرمیوں کا انعقاد کرکے نوجوانوں کو سوچ کے نئے زاوئے فراہم کئے ہیں۔عام انتخابات میں جے آئی یوتھ کے نوجوانوں کو ٹکٹ دیں گے۔

نوجوان ووٹ کی طاقت سے موروثی اور جاگیرادارانہ سیاست کا خاتمہ کریں۔ شمالی وزیرستان کے ایجنسی ہیڈکوآرٹر میرانشاہ میں جے آئی یوتھ کے کامیاب کنونشن سے کارکنوں کو حوصلہ ملا ہے، قبائلی خطے میں نوجوانوں کو منظم ان سے پاکستان کی سلامتی اور بقاء کے لئے جدوجہد کا حلف لیں گے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی یوتھ کو کئی محاذوں پر مختلف چیلنجز درپیش ہیں، ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے کارکنان کی تربیت اور انہیں جدید ذرائع و وسائل سے لیس کرنا ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے اور مخالف عناصر کو تحمل اور بردباری سے اپنے ایجنڈے پر قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ جے آئی یوتھ کے کارکن سوشل میڈیا سمیت ہر محاذ پر اپنی دعوت پہنچانے کا اہتمام کریں ۔ انہوں نے جے آئی یوتھ کے ذمہ داران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات جے آئی یوتھ کے لئے ٹیسٹ کیس ہیں، اپنی دعوت، ایجنڈا اور امیدوار کا تعارف پولنگ سٹیشن کی سطح تک پہنچانا اور رائے عامہ کو اپنے لئے ہموار کرنا اہم ٹاسک ہے۔

جے آئی یوتھ کے ذمہ داران رمضان المبارک میں ہر یونین کونسل کی سطح پر افطار پارٹیوں کا انعقاد یقینی بنائیں اور ان میں انتخابات کے لئے منصوبہ بندی کریں۔ عید کے بعد ہر سطح پر یوتھ کنونشن کا انعقاد یقینی بنائیں اور یوتھ ممبر شپ کے لئے ڈیسک بنائیں۔انہوںنے کہا کہ سابقہ فاٹا میں بلدیاتی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں جماعت اسلامی بھر پور حصہ لے گی اور کامیابی حاصل کرے گی۔

انتخابات میں نوجوانوں کو سامنے لائیں گے اور انہیں ٹکٹ دئیے جائیں گے۔ جے آئی یوتھ کے کارکنان سابقہ فاٹا میں بلدیاتی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لئے ابھی سے تیاریاں شروع کریں ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں پر خاندانوں اور موروثی سیاست دانوں کا قبضہ ہے، باپ بیٹے اور باپ بیٹی کے قبضے کا خاتمہ جماعت اسلامی اور جے آئی یوتھ کا مشن ہے۔ خاندانی اور موروثی سیاست کا خاتمہ کرکے نوجوانوں کو ملک کا حکمران بنائیں گے۔