لاہور ہائیکورٹ نے میاں محمود الرشید کی پی پی 160 اور پی پی151 کی نئی حلقہ بندیوں کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا

پیر مئی 23:00

لاہور۔28 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید کی جانب سے پی پی 160 اور پی پی151 کی نئی حلقہ بندیوں کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

(جاری ہے)

جسٹس شاہد کریم نے نئی حلقہ بندیوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی،میاں محمود الرشید کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حلقہ بندیوں سے قبل امیدواروں کو سننا اور اعتراضات لینا ضروری ہے، پی پی 160 اور پی پی ایک سو اکیاون کی حلقہ بندی سے قبل نہ تو حلقے کے ووٹرز سے اعتراضات مانگے گئے نہ ہی ان کے موقف کو سنا گیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی سے سیاسی بنیادوں پر حلقہ بندیاں کیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے قانون کے برعکس نئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیا جائے، سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صدرمملکت نے پچیس جولائی کو عام انتخابات کرانے کی منظوری دے دی ہے، انتخابی شیڈول جاری ہونے والا ہے جس کی بناء پر درخواست قابل سماعت نہیں۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔