سریاب پیکیج پر کام جاری ہے، موجودہ حکومت نے کسی بھی ترقیاتی کام کو بند نہیں کرنا ،وزیراعلیٰ بلوچستان

پیر مئی 23:31

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک اسگنل کی عدم دستیابی اور تعمیر ہونیوالے پلازوں میں پارکنگ کی سہولت نہ ہونے کی بنا ء پر کوئٹہ شہر میں اکثر ٹریفک شدید جام رہنا معمول بن گیا ہے جس کی وجہ سے عوام خاص کر طلباء و طالبات کو وقت پر سکول پہنچنے پر چھٹی کے بعد گھر پہنچنے میں کافی تاخیر واقع ہوتی ہے اس کے علاوہ ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے مریضوں کو بروقت ہسپتالوں میں پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے پارکنگ پلازے کی تعمیر اورکوئٹہ میں ٹریفک اسگنلز کی توسیق کی جائے گی موجودہ حکومت نے تین ماہ کے دوران جو کمی وبیشی تھی ان کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے ٹریفک سگنل اور ٹریفک روانی کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جو چیز ہمارے پاس آئے ان تجاویز پر بحث کی ٹریفک کی روانی کے لئے پارکنگ سب سے بڑا مسئلہ تھا ہم نے کئی شاہراہوں پر ڈبل پارکنگ کی بجائے سنگل پارکنگ شروع کرادی 2سال سے کوئٹہ پروجیکٹ التواء کا شکار تھا اب جو خامیاں تھیں ان کو ختم کرنے کی کوشش کردی ٹریفک سگنل کا پی سی ون بھی تیار کرلیا گیا جو بہتر کرسکتے تھے کردیا جس کے بعد صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کوئٹہ شہر میں ٹریفک روانی اور ٹریفک سگنل کی روانی کے لئے 10کروڑ روپے مختص کردیئے گئے ہے انڈر پاسز اور فلائی اوور پر بھی کام جاری ہے کچھ عرصے میں کوئٹہ شہر کے ٹریفک کا مسئلہ حل ہو جائے گا اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ کوئٹہ صوبائی دارالخلافہ ہے بدقسمتی سے پورے شہر میں ٹریفک کے سگنل نہیں ہے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں ہم نے اپنے دور حکومت میں ماہرین کو بلایا اور اس نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان کے پاس دو دن ہے وہ اس مسئلہ پر کام کریں رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ توجہ دلائو نوٹس انتہائی اہمیت کا حامل ہے ٹریفک بیورو ہونی چاہئے جو 10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں وہ ناکافی ہے ٹریفک بیورو کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے چاہئے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیرداخلہ کی مثبت یقین دہانی پر توجہ دلائو نوٹس کو نمٹا دیا گیا اجلاس میں بلوچستان آرٹس کونسل کا مسودہ قانون کی رپورٹ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عبدالمالک کاکڑ نے پیش کی اور ایوان نے مسودہ قانون کی تحریک کو مشترکہ طور پر منظور کرلی گئی ایوان میں رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی نے بلو پاسپورٹ سے متعلق مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ و قومی اسمبلی کو تاحیات بلیوآفیشل پاسپورٹ جاری کئے جاتے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے اراکین کو ان کے عہدہ کی مدت کے لئے جاری کئے جاتے ہیں لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ اراکین صوبائی اسمبلی کو بھی تاحیات بلیو آفیشل پاسپورٹ کے اجراء کے لئے پاسپورٹ مینول میں ضروری ترمیم عمل میں لائی جائے مشترکہ قرار داد کی مضونیت پر رکن صوبائی اسمبلی پرنس احمد علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران کو تاحیات مراعات حاصل ہے اس سلسلے بڑی محنت ہوئی بار بار وفاقی حکومت کو عمل کرانے کے لئے قرارداد منظور کرائے گئے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مشترکہ قرار داد میں ترمیم کرکے وزیراعلیٰ بلوچستان اور اسپیکر بلوچستان کیلئے ریڈ پاسپورٹ کو بھی تاحیات کرایا جائے صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی کے پاس بلیو پاسپورٹ ہونے چاہئے کیونکہ ہمیں خوشی ہوگی کہ ہمیں بھی آخر میں جاتے ہوئے مراعات ملنے چاہئے رکن صوبائی اسمبلی سید لیاقت آغا نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق کئی مرتبہ قرار داد لائی گئی اسمبلی مدت تک بلیو پاسپورٹ کی جو سہولیات ہے بعد میں بھی ہونے چاہئے قومی اسمبلی نے تمام پارلیمنٹیرین کو یہ سہولیات دی گئی تو ہمیں بھی یہ سہولیات ہونی چاہئے بلیو پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ صحت اور دیگر مراعات بھی ہونے چاہئے اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ 5سال تک چیختے رہے کسی نے اس مسئلہ پر آواز بلند نہیں کی اب ہم انتخابات لڑیں یا بلیو پاسپورٹ لے کر سیر و تفریح کریں میڈیکل مراعات دیئے جائیں آج کابینہ کا اجلاس ہے کابینہ اجلاس میں منظوری کرکے اس کو اسمبلی سے پاس کرایا جائے ۔

(جاری ہے)

اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ایک حیثیت ہوتی ہے سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی جدوجہد کے بعد یہاں پہنچتی ہے پارلیمنٹ میں آکر ارکان عوام کے مسائل پر بحث اور اپنے جائز سہولیات اور استحقاق پر بات کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں جمہوریت نوزائیدہ ہے اس نوزائیدہ پودے کو سنبھالنے اور مضبوط بنانے کیلئے ارکان اسمبلی کی ذمہ داریاں ہیں ۔

پارلیمنٹ کے اختیارات ہوتے ہیں ہم سے پہلے جو یہاں آئے اور ہمارے بعد جو آئیں گے ان کو ان کی حیثیت دینا اور ان کا احترام کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔اگراس ایوان میں ہم عوام کو تحفظ اور سہولیات فراہم نہ کرسکیں تو یہ افسوسناک ہوگا انہوں نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق قرارداد ایوان پہلے بھی منظور کرچکا ہے اس میں وزیراعلیٰ اور اسپیکر کیلئے بھی ریڈ پاسپورٹ کو شامل کیا جائے اس پر تمام ارکان متفق بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میڈیا میں سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے سیاست کی کمزوریوں کو بیان کیا جارہا ہے کمزوریاں ہر جگہ ہوتی ہیں مگر ملک میں سیاست اور جمہوریت کیلئے جمہوری جدوجہد کسی سے پو؂شیدہ نہیں اس ملک میں اب بھی سیاسی جدوجہد میں کئی ایک مرتبہ سیاسی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا جس میں ایک مثال ڈی چوک کی ہے جہاں پر دھرنا دینے والوں کوناکامی کا سامنا کرنا پڑا اب بھی ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اپنی ذمہ داریاں انجام دینا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان بااختیار ہے جو فیصلے کرے اسے اس کا اختیار حاصل ہے تمام ارکان کیلئے یکساں مراعات اور یکساں احترام ہونا چاہیے انہوں نے زور دیا کہ قرارداد کے حوالے سے تمام چیزیں تیار ہیں ایوان میں قانون لاکرمنظور کیاجائے۔نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ گزشتہ روز ایک مؤقر روزنامے میں ارکان کی مراعات اور بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے جس انداز میں خبر شائع ہوئی وہ افسوسناک ہے اس ایوان کا احترام اور تقدس کا ہر حال میں خیال رکھنا چاہیے۔

سابق اسپیکر جان محمد جمالی اور موجودہ اسپیکر راحیلہ درانی نے بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے بڑی کوششیں کیں اب جب ایوان کی مدت ختم ہونے کو ہے تو بلیو پاسپورٹ کی سہولت دی گئی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی طرز پر بلوچستان اسمبلی کے ارکان کو بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ جاری کیا جائے۔ جمعیت علمائے اسلام کی حسن بانو نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے پہلے بھی قراردادیں آتی رہی ہیں ضرورت اس بات کی تھی کہ آج یہاں ہم قانون سازی کررہے ہوتے۔

صوبائی وزیر زراعت جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ ملنے یا نہ ملنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہمیں عوام سے ملنے والی اجازت ہی کافی ہے۔پشتونخوامیپ کے حامد خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنمائوں کی قربانیوں اور جدوجہد کے بدولت ہی ون یونٹ ٹوٹا اور اس صوبے کو اسمبلی نصیب ہوئی ۔ اس ملک میں پہلے دن سے آمریت اور جمہوریت کی جنگ چل رہی ہے۔

دنیا میں پارلیمنٹ کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا یہاں پر ارکان کو اتنی دفاعی پوزیشن پر لایا گیا ہے کہ وہ اپنے لئے بلیو پاسپورٹ جیسے چھوٹے مسئلے پر بات کررہے ہیں۔ یہ خود پارلیمنٹ کی تضحیک کے مترادف ہے۔ پارلیمنٹ ہی اس ملک میں سب سے بالادست ہے۔پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے نے کہا کہ ارکان کی مراعات اور تنخواہوں سے متعلق بل التواء کا شکار ہے ، وزیراعلیٰ کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری دے کر بلیو پاسپورٹ کو بھی اس کا حصہ بنائے ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ یہ صوبے کا سب سے محترم ایوان ہے عوام کے ووٹوں سے ارکان یہاں منتخب ہوکر آتے ہیں ارکان اسمبلی سے متعلق کچھ بھی لکھنے اور بولنے سے قبل میڈیا تمام چیزوں کو دیکھیں کیونکہ یہاں تمام ارکان عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں اور تمام فیصلے اسی ایوان میں ہوتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کو جو مراعات حاصل ہیں وہ سرکاری آفیسران کو بھی حاصل ہیں بلکہ انہیں کچھ زیادہ حاصل ہیں۔

ہم نے صوبے کے عوام کیلئے ہیلتھ کارڈ جاری کردیئے ہیں۔ دل ، گردہ اور کینسر کے مریضوں ملک کے اعلیٰ ہسپتالوں میں سرکاری سطح پر علاج کیلئے فنڈز مختص کردیئے ہیں۔ دنیا بھر میں منتخب ارکان کو سہولیات حاصل ہوتی ہیں آج رات کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے جس میں بلیو پاسپورٹ کی منظوری دے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ارکان کو کوئی ایسی انوکھی مراعات نہیں دے رہے بلکہ یہ وہ سہولیات ہیں جو پوری دنیا میں منتخب ارکان کو حاصل ہیں۔

ارکان اسمبلی کی اپنی ایک حیثیت ہے اور انہیں پوری دنیامیں سہولیات اور مراعات قانون کے مطابق ملتی ہے۔ میڈیا اور اخبارات میں لکھنے سے پہلے سب چیزوں کو دیکھا جائے۔ دنیا میںکوئی قانون سے بالاتر نہیں اور نہ ہی ہم ایسا کوئی کام کررہے ہیں۔ اس موقع پر اسپیکر نے ایوان کی رائے سے وزراء اور اسپیکرز کیلئے تاحیات بلیو اور ریڈ پاسپورٹ کے اجراء کی ترمیم کے ساتھ قرارداد منظور کرلی۔

رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیر ے نے سریاب پیکج میں ان کے حلقے کو نظر انداز کرنے پر احتجاجاًایوان کے فرش پر بیٹھ کر احتجاج کیا وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے نصراللہ زیرے کو منا لیا رکن صوبائی اسمبلی عبیداللہ بابت نے کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم کے سلسلے میں ہمارے حلقے کو نظر انداز کردیا گیا تھا وزیرداخلہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لورالائی جاکر وہاں کے طالب علموں میں لیپ ٹاپ تقسیم کریں گے مگر وعدہ وفا نہیں کر پائے ہمارے اوپر کچھ رحم کریں رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حامد اچکزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے مشکور ہے جنہوں نے قلعہ عبداللہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے ۔

اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ لیپ ٹاپ اور اسکالر شپ میں کئی اضلاع کو نظر انداز کیا گیا انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ تقسیم عوامی نوعیت کا کام ہے تمام اضلاع سے لسٹیں اکٹھا کیا جائے میرٹ کو پامال کیا گیا اس کو کیوں نظر انداز کیا گیا قلعہ سیف اللہ میں پوزیشن حاصل کرنیوالے طالب علم کو لیپ ٹاپ نہیں دیا گیا انہوں نے کہا کہ جو حق دار ہے ان کو حق دیا جائے لیپ ٹاپ اسکیم اور اسکالر شپ کے لئے 7ارب روپے رکھے گئے اسپیکر کا نوٹس لیں وزیراعلیٰ بلوچستان میرٹ لسٹ کو مد نظر رکھیں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ سریاب پیکج پر جو کام جاری ہے اس کو ہم کسی صورت نہیں روکھیں گے موجودہ حکومت نے کسی بھی ترقیاتی کام کو بند نہیں کرنا ہے بلکہ جو کام رکھیں ہوئے ہیں ان کا جاری رکھا ہوا ہے سریاب روڈ میں بلا امتیاز سریاب پیکج پر کام شروع ہے منظور شدہ اسکیمات کو کسی صورت نہیں روکھا جائے گا اس سال مزید لیپ ٹاپ اسکیم کے لئے 500ملین رکھا گیا ہے کالج کے پرنسپل پر مشتمل کمیٹی بنا کر پھر محکمہ تعلیم سے منظور لی جاتی ہے لیپ ٹاپ اسکیموں میں کسی بھی حلقے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا جن اضلاع میں لیپ ٹاپ تقسیم نہیں ہوئے ان میں جلد لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے اگر میرے پاس 5دن کا بھی وقت ہوتا تو میں لورالائی جا کر لیپ ٹاپ تقسیم کرتا انہوں نے کہا کہ کسی پر بھی انگلی نہ اٹھایا جائے بلکہ میں خود چیزوں کو ٹھیک کرنا ہوگا جب اچھا کام ہوگا تو لوگ ووٹ دیںگے اگر ہم نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا تو وہ ہمیں منتخب نہیں کریں گے ۔

اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ این ایف سی میں وفا ق سے تمام چیزوں پر صوبے کا کوٹہ طے کیا گیا مگر یہ حج پر لاگو نہیں ہوتا ۔ ملک کی آبادی زیادہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے لوگوں کے نام قرعہ اندازی میں نہیں نکلتے۔ بلوچستان کیلئے حج کا بھی کوٹہ مختص کیا جائے۔ صوبائی وزیر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے جو ہر سال زیر بحث آتا ہے اس پر وفاق سے بات کرینگے۔

اسپیکر راحیلہ درانی نے کہا کہ کوٹہ کم ہونے کی وجہ سے ہمارے لوگ حج کی ادائیگی سے محروم رہتے ہیں اس مسئلے کو فاق سے اٹھایا جائے ۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ بجٹ کے اجلاس میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر افسوس ہوا ۔ بجٹ اجلاس اسمبلی کا سب سے اہم اجلاس ہوتا ہے ۔ انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسٹوڈین آف ہائوس ہے آپ نے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے بجٹ سنجیدہ مسئلہ تھا جس پر اپوزیشن نے بات اور غلطیوں کی نشاندہی کرنی تھی۔

بجٹ تو حکومت بناچکی تھی ہم صرف اپنا مؤقف رکھنا چاہتے تھے مگر اسپیکر اور وزیراعلیٰ دونوں سے بات کرنے کے باوجود مایوسی ہوئی اور ہمیں حق سے محروم رکھا گیا۔ یہ چیزیں تاریخ میں ضرور لکھی جائیں گی۔ اسپیکر نے کہا کہ جو چیز اسپیکر چیمبر میں زیر بحث آئے اس پر ایوان میں بات نہیں ہوتی مگر آپ نے چونکہ ایک بات ایوان میںاٹھائی تو میں بھی ریکارڈ پر یہ بات لانا چاہتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ غیر جانبدار رہ کر فرائض سرانجام دیئے۔

آپ میرے پاس صرف ایک روز قبل آئے تھے اور قواعد کے مطابق میرے لیے ممکن نہیں تھا ۔ رولز کی خلاف ورزی میرے لیے ممکن نہیں تھی۔ اس موقع پر کورم کی نشاندہی پر اسپیکر نے 5منٹ کیلئے گھنٹیا ںبجانے کی ہدایت کی تاہم کورم پورا نہ ہونے پر اسپیکر نے اجلاس کو 30مئی کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردی گئی۔