گھوڑا مکھی ، سفید مکھی، مائٹس ، سیاہ بگ رس چوسنے والے کیڑے ،ارلی شوٹ بورر، جڑ، تنے ، چوٹی کے گڑؤویںاور گرداسپوری گڑؤویںکماد کی فصل کیلئے نقصان کا باعث بنتے ہیں، کاشتکار ان کاتدارک یقینی بنائیں، ماہرین انٹو مالوجی

پیر مئی 23:43

فیصل آباد۔28 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) ماہرین انٹو مالوجی نے کہاہے کہ گھوڑا مکھی ، سفید مکھی، مائٹس ، سیاہ بگ رس چوسنے والے کیڑے ،ارلی شوٹ بورر، جڑ، تنے ، چوٹی کے گڑؤویںاور گرداسپوری گڑؤویںکماد کی فصل کیلئے نقصان کا باعث بنتے ہیں لہٰذا کاشتکار ماہرین زراعت کے مشاورت سے ا ن کابروقت تدارک یقینی بنائیں۔ایک ملاقات کے دوران انہوںنے بتایاکہ کماد صوبہ پنجاب کی اہم نقد آور فصل ہے جسے کاشتکاروں کی معاشی بہبود میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔

انہوںنے کہاکہ سیاہ بگ کماد کی مونڈھی فصل میں زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے اور اس سال اس کیڑے کا حملہ اپریل اور مئی میں فصل کی ابتدائی بڑھوتری کے دوران نوٹ کیا گیا ہے جس کے بالغ اور بچے پتوں کے غلاف کے اندر رہ کر رس چوس کر فصل کو کمزور کردیتے ہیںاور فصل کی رنگت زرد ہوجاتی ہے نیز اگر اس کیڑے کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو پیداوار میں 35فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ کاشتکار اس کے طبعی انسداد کیلئے فصل کو پانی کی کمی نہ ہونے دیں اورکیمیائی تدارک کیلئے بائی فینتھرین زہر بحساب 500ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔ اسی طرح ارلی شوٹ بورر کے حملہ سے کماد کی فصل کی پیداوار میں 25سی30فیصد کمی ہوجاتی ہے جس کے کیڑے کی سنڈی کے جسم پرپانچ عدد گہرے بھورے رنگ کی دھاریاں ہوتی ہیںاورپروانے کا رنگ مٹیالا و پچھلے پر سفید ہوتے ہیں جبکہ اس کیڑے کا حملہ مارچ سے نومبر تک موجود رہتا ہے۔

انہوںنے کہاکہ اس کیڑے کی سنڈیاں فصل کی ابتدائی بڑھوتری کے دوران زمین کی سطح کے برابر گنے کی کونپل میں سوراخ کرکے پودوں میں سوک بناتی ہیں جو آسانی سے کھینچی جاسکتی ہے اور متاثرہ گنے سے بہت زیادہ بدبو محسوس ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس کیڑے کے تدارک کیلئے فصل کی کاشت کو فروری میں مکمل کرلینا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ کاشتکاراس کے کیمیائی تدارک کیلئے کاربوفیوران زہر بحساب 15کلو گرام فی ایکڑ چھٹا کریں یا فیپرونل زہر بحساب 800ملی لیٹریا کلور انٹرا نیلی پرول بحساب 50ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔

انہوںنے کہاکہ کماد کے مختلف کیڑوں کے انسداد کے لیے روشنی کے پھندے بھی لگائے جائیںاورمقامی شوگر ملوں کی لیبارٹریوں سے ٹرائیکوگاماکارڈ حاصل کرکے فصل میں کسان دوست کیڑے چھوڑنے کا بندوبست بھی کیا جائے تاکہ فصل کو نقصان سے بچایاجاسکے۔

متعلقہ عنوان :