سندھ کی 27 رکنی کابینہ اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد تحلیل ہوگئی

صوبائی وزراء ،مشیروں اورمعاونین خصوصی نے سرکاری دفاترخالی اورسرکاری گاڑیاں واپس کردیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نگران وزیراعلی کی حلف برداری تک فرائض انجام دیتے رہیں گے

پیر مئی 23:49

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) سندھ کی 27 رکنی کابینہ اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد تحلیل ہوگئی۔ صوبائی وزراء ،مشیروں اورمعاونین خصوصی نے سرکاری دفاترخالی اورسرکاری گاڑیاں واپس کردیں ۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نگران وزیراعلی کی حلف برداری تک فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ پیرکی شب آپنی آئینی مدت پوری ہونے پرسندھ کی 27 رکنی کابینہ تحلیل ہوگئی اورسندھ کابینہ میں شامل صوبائی وزرا نثار احمد کھوڑو، منظور حسین وسان، مخدوم جمیل الزماں، جام مہتاب ڈہر،ناصر حسین شاہ، سہیل انور سیال، جام خان شورو، ضیاالحسن لنجار، محمد علی ملکانی، جام اکرام اللہ دھاریجو، محمد بخش مہر، سردار علی شاہ، فیاض بٹ، مکیش کمار چالہ، امداد علی پتافی، سعید غنی اور ممتاز حسین جھکرانی صوبائی وزیراور شمیم ممتاز صوبائی مشیر کے عہدے سے فارغ ہوگئیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب9معاونین خصوصی جن میں سکندر شورو، مرتضی بلوچ، تیمور تالپور، عابد بھیو، ریحانہ لغاری، شاہد عبدالسلام، غلام شاہ جیلانی، کھٹو مل جیون، ارم خالد کے سرکاری عہدے کی مدت بھی ختم ہوگئی۔۔سندھ کابینہ کی مدت پیرکی رات 12 بجے پوری ہونے سے پہلے ہی کئی صوبائی وزرا نے اپنے سرکاری دفاترمتعلقہ انتظامیہ کے حوالے کردیے ان میں صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو، وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، منظور حسین وسان، وزیر قانون ضیاالحسن لنجار، وزیر ثقافت سردار علی شاہ ، ڈاکٹر سکندر شورو، شمیم ممتاز، ممتاز حسین جکھرانی، فیاض بٹ، مکیش کمار چالہ، امداد پتافی سمیت دیگر وزرا و معاونین خصوصی نے پیر کو اپنے دفاتر خالی کردیے۔

قبل ازیں صوبائی وزرا نے وزیراعلی ہاس میں سندھ کابینہ کے الوداعی اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں پیپلزپارٹی کی شہید قیادت کارکنان اورسابق صوبائی وزیرمیرہزارخان بجارانی سمیت مرحوم ارکان سندھ اسمبلی کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی ۔کابینہ ارکان کو وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے افطار عشائیہ بھی دیا گیا کابینہ ختم ہونے کے باوجود وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اپنے عہدے پر نگراں وزیراعلی کے تقرر تک برقرار رہیں گے۔

سندھ کابینہ کے الوداعی اجلاس میں حکومتی کارگردگی ،نگران وزیراعلی کے تقرر سمیت دیگراہم امورپرمشاورت کی گئی اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مرا دعلی شاہ نے کہا کہ میں نے سندھ کے عوام کی بھرپور خدمت کرنے کی کوشش کی ہے،یہ خدمت کسی پر احسان نہیں تھا بلکہ یہ ہمارے عوام کا حق تھا جس نے ہمیں ووٹ دیا،میں نیشہریوں اور دیہی علاقوں میں کوئی فرق نہیں کیا،گورنمنٹ کا کام بھی ایمانداری سے کیا اور کبھی بھی فائلز میرے ہاں پینڈنگ میں نہیں رہیں،انہوں نے کہاکہ میں نے سندھ کا کیس وفاق کے ساتھ بھرپور طریقے سے لڑا،اور 22 مہینے کے دوران ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے،اجلاس میں صوبائی وزراء نثار کھوڑو ، منظور وسان اور دیگر وزرا نے سی ایم کے کام کی رفتار اور محنت کی تعریف کی وزیراعلی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے تھر میں کول مائننگ کا کام پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے ،ہیلتھ سیکٹر میں کافی بہتری ہوئی ہے تاہم ایجوکیشن سیکٹر میں مزید کام کی ضرورت ہے سید مراد علی شاہ نے کہاکہ مختلف شعبوں میں انفرااسٹرکچر کا کام بہترین اندازمیں وقت پر مکمل کیاگیاہے، اس وقت سندھ کے تقریبا تمام اضلاع روڈ نیٹ ورک اور پلوں کے ذریعے کنیکٹیڈ ہیں، سندھ حکومت کی کافی کامیابیاں ہیں جو گرائونڈ پر موجود ہیں سندھ میں ہمارے دور میں امن و امان بحال ہوا لسانی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی پروان چڑھی، پارٹی قیادت کا شکرگذار ہوں جس نے ہمارے اوپر عتماد کیا، آج ہمارے سینئر دوست میر ہزار بجارانی ہمارے ساتھ نہیں ہیں میں ان کو بھی یاد کررہا ہوں۔

انہوں نے کہایہ ایک تاریخی دن ہے کہ صوبائی حکومت اپنی 5 سالہ مدت پوری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کے لوگوں کی کامیابی ہے جنہوں نے اسمبلی کو منتخب کیا اور یہ جمہوریت کی بھی فتح ہے جس کے لیے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی قربان کی۔ انہوں نے یہ بات وزیر اعلی ہائوس میں الوداعی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ ان کے 22 مہینے کی مدت کے دوران انہوں نے دن رات لگن اور ایمانداری کے ساتھ سندھ کے لوگوں کی خدمت کی ،جنہوں نے انہیں منتخب کیاہے ۔

ہمارے لوگ ((سندھ کی) نے ہمیں بلا تفریق ووٹ کے ذریعے اختیار دیا اور ہم نے ان کی بہتر سے بہتر طریقے سے خدمت کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے تعلیم ، صحت، انفرااسٹرکچر کی ترقی اور امن و امان کی بحالی کی جانب خصوصی توجہ دی اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم نہ صرف امن و امان بحال کرنے میں کامیاب رہے بلکہ ہم نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا اور آج ہمارے صوبے میں پائیدار امن اور یکجہتی کی فضا قائم ہے۔

انفرااسٹر کچر کی ترقی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انہوں نے دیہی اور شہری علاقوں کو برابری کی سطح پر ترقی دی ،،کراچی کو ایک خوبصورت عکس دیا اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی ری اسٹرکچرنگ ، انڈر پاسس اور اوور ہیڈپلوں کی تعمیر سے ٹریفک کے رواں بہائو کا مسئلہ کسی حد تک حل ہوجائے گا مگر ٹریفک جام کا حل بی آر ٹی اور کے سی آر کی تعمیر میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی سسٹم پر کام جاری ہے جبکہ کے سی آر کا منصوبہ پائپ لائن میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کا نیٹ ورک اور دریائے سندھ پر پلوں کی تعمیر سے صوبے کے تقریبا تمام اضلاع کو ملا دیا ہے ۔ ہم نے ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک فاصلوں کو کم کیا ہے ۔انہوں نے فخریہ اندا ز میں کہا کہ اب تھر کول سے چند ماہ کے بعد بجلی کی پیدا وار شروع ہوجائے گی اور کان کنی کا کام بھی تکمیل کے مراحل میں ہے اور پاور پلانٹ کی تنصیب کا کام بھی تقریبا ہوچکا ہے ۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(پی پی پی) کے تصور کے تحت سندھ میں بہترین طریقے سے کام ہوا ہے ۔ پی پی پی کے انتظامات کے تحت ہم نے دریائے سندھ پر پل تعمیر کیا ،،کراچی ۔ ٹھٹھہ دورویہ سڑک تعمیر کی اور دیگر سڑکیں اور متعددمنصوبے پائپ لائن میں ہیں ۔وزیراعلی سندھ نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان پر بھرپور اعتماد کیا مراد علی شاہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ وہ اور ان کی کابینہ انتخابات کے لیے لوگوں کے پاس واپس جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ ہم نے سندھ کے لوگوں کے لیے اچھے انفرااسٹرکچر اور اچھی صحت کی خدمات ، اچھی تعلیم کی صورت میں ان کے لیے کچھ کیا اور ہم ایک بار پھر ان کے لیے بہتر سے بہتر خدمات سرانجام دیں گے۔،میں نے پوری کوشش کی کہ لیڈر شپ کے اعتمادپر پورا اتروں،چیف سیکریٹری رضوان میمن کا بھی شکر گزار ہوں جس نے ہمیشہ تعاون کیا اور صدیق میمن صاحب نے بھی اپنے دور میں حکومت کی سپورٹ کی۔

انہوں نے پوری بیوروکریسی کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اچھے افسران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمارے ساتھ شب روز بھرپور کام اورتعاون کیا۔اجلاس میں صوبائی وزرا ، مشیر اور معاون خصوصی ، چیف سیکریٹری رضوان میمن ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔