پنجاب حکومت کی جانب سے دی گئی امداد میں حصہ دو ورنہ مقدمہ کر دیں گے، پنجاب پولیس کی شرمناک سینہ زوری

قصور زیادتی کیس میں متاثرہ بچی کے لواحقین کو دی جانے والی پنجاب حکومت کی 10 لاکھ امداد سے پولیس نے اپنا حصہ مانگنا شروع کر دیا، لواحقین کی جانب سے انکار پر لواحقین کے خلاف مقدمات درج کرنا شروع کر دئیے ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر مئی 22:02

پنجاب حکومت کی جانب سے دی گئی امداد میں حصہ دو ورنہ مقدمہ کر دیں گے، ..
قصور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-28 مئی 2018 ء) ::پنجاب حکومت کی جانب سے دی گئی امداد میں حصہ دو ورنہ مقدمہ کر دیں گے، پنجاب پولیس کی شرمناک سینہ زوری منظر عام پر آ گئی ہے۔لواحقین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ قصور زیادتی کیس میں متاثرہ بچی کے لواحقین کو دی جانے والی پنجاب حکومت کی 10 لاکھ امداد سے پولیس نے اپنا حصہ مانگنا شروع کر دیا، لواحقین کی جانب سے انکار پر لواحقین کے خلاف مقدمات درج کرنا شروع کر دئیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قصور میں پولیس کی جانب سے ایک اور شرمناک واقعہ سامنے آ گیا ہے۔صابر علی قصور کے علاقے پیر والا کا رہائشی تھا۔صابر علی کی کمسن بیٹی کو قصور زیادتی کیس کے ملزم عمران نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا اور اسے بے ہوشی کی حالت میں زندہ پھینک کر فرار ہوگیا تھا، متاثرہ بچی کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے دس لاکھ کی امدادی رقم دی گئی۔

(جاری ہے)

جس کے بعد متعلقہ تھانے کی پولیس نے متاثرہ بچی کے لواحقین سے پنجاب حکومت کی جانب سے دی گئی امداد میں حصہ مانگنے لگ پڑے ۔متاثرہ بچی کی دادی جیجاں کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی عمران کمبوہ تھانہ صدر کے ایس ایچ او محمد اعظم ڈھڈی کا نام لیکر امدادی رقم میں سے دو لاکھ روپے حصہ مانگ رہا ہے، مختلف مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، پولیس کے رویہ کے ڈر سے اے ایس آئی عمران کمبوہ کو 42 ہزار روپے دے دیئے، مزید رقم دینے سے انکار پر اے ایس آئی عمران نے بیٹوں پر منشیات فروشی کے جھوٹے مقدمات درج کروانے شروع کر دیئے ہیں۔

خاتون نے پولیس کے اس روئیے سے تنگ آکر ڈی پی او قصور سے درخواست کی ہے کہ وہ معاملے میں مداخلت کر کے پولیس کو اس زیادتی سے روکیں ،اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ہمیں انصاف دلائیں اور پولیس کے روئیے کا نوٹس لیں۔