پیپلز پارٹی نے اپنے انتخابی نشان "تیر" کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

muhammad ali محمد علی پیر مئی 22:19

پیپلز پارٹی نے اپنے انتخابی نشان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) پیپلز پارٹی نے اپنے انتخابی نشان "تیر" کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے دہائیوں بعد اپنے مقبول انتخابی نشان تیر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تیر کے انتخابی نشان کو چھوڑنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی جانب سے دی جانے والی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اب تیر کی بجائے انتخابی نشان ’’تلوار‘‘ کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی ہے۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن میں پیپلزپارٹی کی جانب سے دائر کی گئی تلوار کے انتخابی نشان کے حصول کی درخواست کی سماعت کل ہوگی۔ واضح رہے کہ تلوار پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد جماعت کے شروع کے دنوں میں انتخابی نشان کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔ تاہم بعد ازاں پیپلز پارٹی نے تیر کو انتخابی نشان کے طور پر اپنا لیا تھا۔ اب دہائیوں بعد پیپلز پارٹی کو دوبارہ قومی سطح کی سیاست میں زندہ کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں تلوار کو پارٹی کے انتخابی نشان کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی درخواست پر حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کرے گا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے تلوار کے انتخابی نشان کے ساتھ آئندہ الیکشن میں  میدان میں اترنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔