کپاس کی بی ٹی اقسام پر تھرپس اور سفید مکھی کا حملہ ہوسکتا ہے،کاشتکار محتاط رہیں،زرعی ماہرین

منگل مئی 10:50

قصور۔29 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ کپاس کی بی ٹی اقسام پراگائو کے بعد تھرپس اور سفید مکھی کا حملہ ہوسکتاہے لہذاکاشتکار محتاط رہیں اور اگرکسی کیڑے مکوڑے یابیماری کے حملہ کی کوئی شناخت ظاہرہو تو فوری طورپرماہرین زراعت یامحکمہ زراعت توسیع کے عملہ کی مشاورت سے زرعی زہروں کے سپرے کو یقینی بنایاجائے نیز اس ضمن میں کیمیائی تدارک کیلئے ڈائی میتھوایٹ 40 ای سی 300 سے 400 ملی لیٹر فی ایکڑ یا تھایا کلوپرڈ48 ایس سی 100ملی لیٹر فی ا یکڑ یا ایسی فیٹ 97ڈی ایف 300 گرام فی ایکڑ یا سپائنو سیڈ48 فیصدایس سی 20 ملی لیٹرفی ایکڑ کا بھی سپرے کیاجاسکتاہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ دنیامیں کپاس پیداکرنیوالے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبرپر ہے جبکہ پنجاب کو کپاس کی کاشت کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ملکی مجموعی پیداوارکی تقریباً 80فیصد پنجاب میں پیداہوتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ تھرپس چھوٹا سا رس چوسنے والا کیڑا ہے جس کے بچے اوربال پتوں کی سطح کورگڑ کر رس چوستے ہیں اس طرح تھرپس کے حملہ کیوجہ سے پتوں کی نچلی سطح چاندی کی طرح چمکیلی ہوجاتی ہے اورپتے چڑمڑہوجاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پیاز‘گوبھی‘ آلو‘ تمباکو‘ ٹماٹر‘ کھیرا‘ لہسن اورجڑی بوٹیاں تھرپس کے متبادل میزبان پودے ہیں۔

متعلقہ عنوان :