معروف صحافی جنرل اسد درانی کی حمایت میں بول پڑے

یہ کتاب پڑھنے کے بعد میرے دل میں جنرل اسد درانی کی عزت بڑھ گئی ہے، معروف تجزیہ نگار رؤف کلاسرا کی جنرل اسد درانی کی لکھی گئی متنازع کتاب پر تبصرہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل مئی 10:55

معروف صحافی جنرل اسد درانی کی حمایت میں بول پڑے
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔29 مئ 2018ء) معروف صحافی جنرل اسد درانی کےبھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے ساتھ کتاب لکھنے کی حمایت میں بول پڑے۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی رؤف کلاسرا کا دوران پروگرام گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری بھی جنرل اسد درانی کے بارے میں رائے اچھی نہیں تھی۔لیکن میں رسک لیتے ہوئے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ جنرل اسد درانی کی لکھی گئی کتاب پڑھ کر میرے دل میں ان کے لیے عزت بڑھ گئی ہے۔

اور یہ کتاب پڑھنے کے بعد میں پاک بھارت تعلقات،پاک امریکہ تعلقات اور افغنستان کے معاملے پر بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں۔میں تو اس کتاب کو پڑھنے سے قبل جاہل آدمی تھا۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ بھارتی خفیہ اینجسی کے سابق سربراہ اےایس دلت اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کو اس بات کی داددینی چاہئیے کہ دونوں نے بہت مہذب انداز میں اپنے اپنے ملک کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔

(جاری ہے)

لوگوں کو حیرانی اس بات پر ہوئی ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ پاک بھارت کے خراب تعلقات کے بارے میں ہی بتایا ہے اور بھارت میں بھی یہی صورتحال ہے۔اب دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں نے مل کر بتا دیا ہے کہ ہم ماضی میں بھی ملتے تھے اور ہماری خفیہ ملاقتیں بھی ہوتی تھیں۔تو پاکستانیوں کے لیے یہ خبر دھماکے دار تھی کہ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کی ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔

رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں لوگوں پر غداری پر بہت فتوی آ جاتے ہیں۔لیکن اس کتاب میں اے ایس د لت نے کشمیر کے حوالے سے مودی کو کو اکھیڑ کر رکھ دیا ہے۔اور اے ایس دولت نے بھارتی پالیسیوں پر بھی بہت تنقید کی ہے لیکن انہیں بھارت میں غدار نہیں کہا گیا۔اور اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں کہہ دسکتا ہوں کہ اے ایس د لت نے پاک بھارت تعلقات سے متعلق پاکستان کے موقف کو درست ثابت کیا ہے۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اسد درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بجائے دونوں ملکوں کو قریب لانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اسد درانی نے اس کتاب میں ملک کے خلاف کوئی بات نہیں کی اس لیے اس میں اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ویڈیو ملاحظہ کیجئے: