جسٹس(ر) ناصر الملک پر کبھی کسی نے انگلی نہیں اٹھائی ، وہ سب کو قبول ہیں-نوازشریف

احتساب عدالت میں اس مائینڈ سیٹ کی وجہ سے گھسیٹا جارہا ہے جو کہتا ہے کہ آپ کو سبق سکھائیں گے۔مریم نواز کی پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل مئی 11:14

جسٹس(ر) ناصر الملک پر کبھی کسی نے انگلی نہیں اٹھائی ، وہ سب کو قبول ہیں-نوازشریف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 مئی۔2018ء) سابق وزیر اعظم نوز شریف نے کہا ہے کہ جسٹس(ر) ناصر الملک پر کبھی کسی نے انگلی نہیں اٹھائی ، وہ سب کو قبول ہیں، ان کی نامزدگی قابل ستائش ہے۔ان کی تعیناتی کو سراہنا چاہیے۔۔نواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس(ر) ناصر الملک کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ نگراں وزیراعظم ناصر الملک ایک بے مثال اور قابل احترام شخصیت کے حامل ہیں، ان کی بطور جج اور چیف جسٹس خدمات شاندار ہیں۔

انہوں نے اسد درانی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسد درانی نے بہت اہم گفتگو کی ہے، اس پر مشاورت کے ساتھ نیشنل انکوائری کمیشن بننا چاہیے، پارلیمنٹ،، سول سوسائٹی اور عدلیہ اس میں شامل ہو، اسٹیبلشمنٹ بھی اس کمیشن کا حصہ ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے ساری چیزوں کی تہہ تک جایا جائے، اسد درانی نے کتاب لکھی،مشرف اورشاہد عزیزنے بھی بیان دیے۔

نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام پر شہباز شریف نے مجھ سے مشاورت کی،سیاست دان اتنے تنگ نظر نہیں ہیں کہ ناصرکھوسہ جسٹس آصف کھوسہ کے بھائی ہیں تو انکا نام ڈراپ کردیں،وہ میرے پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں ، ان کا نام تحریک انصاف کی جانب سے آیا۔۔نواز شریف نے کہا کہ سیاستدانوں کی زندگیوں کو خطرات ہیں لیکن ان کی سیکورٹی واپس لے لی گئی،کوئی حادثہ ہو گیا تو ذمہ دار کون ہوگا ؟ نوازشریف نے ایک بارپھرقومی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔

نوازشریف نے کہا کہ قومی کمیشن کا پارلیمنٹ،، عدلیہ، سول سوسائٹی اوراسٹیبلشمنٹ بھی حصہ ہوسکتی ہے ‘ ہم نے قوم کوڈبونا نہیں، صرف ایک بندے کے خلاف انکوائری سے کچھ نہیں ہوگا نہ ہونا چاہئے، اب اس چیز کی تہہ تک پہنچنا ہوگا، پرویزمشرف، اسد درانی اورشاہد عزیزکی کتابیں دیکھ لیں اوردھرنے کے کردار تو بتا ہی چکا ہوں۔ نوازشریف اور مریم نواز احتساب عدالت میں پیشی کے بعد واپس روانہ ہو گئے ۔

ادریں اثناءنوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے احتساب عدالت میں دیئے گئے جوابات کا ذکر کیا۔۔مریم نواز نے بتایا کہ مجھے احتساب عدالت میں اس مائینڈ سیٹ کی وجہ سے گھسیٹا جارہا ہے جو کہتا ہے کہ آپ کو سبق سکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ طبقہ اپنے آئینی اختیارات کی بدولت منتخب عوامی نمائندوں کو مختلف امور میں گھیسٹتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں پاناما پیپز کیس میں تمام ثبوت کا جائزہ لیا لیکن میرا نام سامنے نہیں آیااور آج انہی ثبوت کی بنیاد پر مجھے احتساب عدالت میں بلایا جاتا ہے۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ احتساب عدالت میں دیئے گئے سوالات کے جوابات کا دوسرا حصہ ان وجوہات پر مبنی تھا جس میں، مجھے مقدمات میں کیوں الجھایا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مجھے معلوم ہے کہ 70 سے زائد پیشگیاں کیوں بھگت چکی ہوں اور آج تک یہ سلسلہ کیوں جاری ہے، مجھے کینسر میں مبتلا ماں سے کیوں دور رکھا جارہا ہے؟۔۔مریم نواز نے کہا کہ میں کسی بدعنوانی، کرپشن میں ملوث نہیں رہی اور نہ ہی سرکاری عہدے پر فائز رہی جبکہ میرا قصور یہ ہے کہ میں محمد نواز شریف کی بیٹی ہوں اور اپنے والد کے ساتھ کھڑی ہوں اور انہیں حق بجانب سمجھتی ہوں۔

مریم نواز نے کہاکہ مجھے ریفرنس میں الجھانے کی وجہ والد کے اعصاب پر دباﺅ ڈالنا ہے لیکن میں اپنے باپ کا سرجھکنے نہیں دوں گی۔ مریم نوازنے کہا کہ نوازشریف کے بہت سے جرائم اور بہت سے گناہ ہوں گے مگرانہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، نوازشریف نے 70سال بعد فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا، انہوں نے 19 سال بعد مردم شماری کرائی، نوجوانوں اور بے روزگاروں کیلیے روزگارکے مواقع کھولے، دیوالیہ ہوجانے والی معیشت کو بحال کیا، کراچی کی رونقیں بحال کیں، جدید شاہراہوں اور موٹرویز کا جال بچھایا، سی پیک کی شکل میں پاکستان کواربوں ڈالرکی سرمایہ کاری دی، دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ احتساب عدالت میں تین دن میرا بیان ریکارڈ ہوا اور عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 127 سوالات کےجوابات دیے، سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے میں میرا کوئی ذکرنہیں تھا پھراچانک کیا ہوا کہ جے آئی ٹی نے مجھے بلایا اور سوالات کیے۔ مجھے واٹس ایپ والی جے آئی ٹی میں پیش ہونا پڑا۔۔مریم نواز نے کہا کہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جوکہتا ہے آپ کوسبق سکھائیں گے، نوازشریف کوسبق سکھانے کے لیے مجھے کیس میں گھسیٹا گیا، عدالت میں 70 سے زائد پیشیاں بھگت چکی ہوں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے، پاکستان کی کسی ماں کسی بیٹی کو اتنی پیشیاں نہیں بھگتنی پڑیں، اپنے والد کی طرح میں بھی جانتی ہوں کہ مجھے اس مقدمے میں کیوں الجھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی بیٹی ہوں جسے پاکستان بھرمیں تماشا بناکر رکھ دیا گیا، میں نے بدعنوانی نہیں کی نا ہی کسی سرکاری عہدے پررہی ہوں، میرا قصور یہ ہے کہ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں اور میری رگوں میں نوازشریف کا لہو دوڑرہا ہے، مجھے ریفرنس میں الجھانے کی وجہ میرے والد کے اعصاب پردباﺅ ڈالنا ہے۔ منصوبے بنانے والے یاد رکھیں کہ نواز شریف کی بیٹی اس کی کمزوری نہیں طاقت ہے، میں اپنے باپ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوں، میں اپنے باپ کا سر جھکنے نہیں دوں گی۔