نوازشریف نے جو وعدے کیے وہ پورے کر دیے،نون لیگ کے دورمیں جوترقی ہوئی وہ 65 سال میں نہیں ہوئی-شاہدخاقان عباسی

وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا، اجلاس میں اسد درانی کی متنازع کتاب کا معاملہ بھی زیرغورآنے کا امکان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل مئی 11:26

نوازشریف نے جو وعدے کیے وہ پورے کر دیے،نون لیگ کے دورمیں جوترقی ہوئی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 مئی۔2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نوازشریف نے جو وعدے کیے وہ پورے کر دیے،یہ فرق ہے موجودہ اور پچھلی حکومتوں میں، مجھے نظرنہیں آتا کہ لوگ دھرنے دینے والوں کو ووٹ دیں گے۔۔سی پیک کے زیر تعمیر حصے حویلیاں تھاکوٹ موٹروے کے دورے کے موقع پر وزیراعظم شاہدخاقان عباسی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں دس سال آمریت رہی اس کے بعد جمہوری دورآیا،نون لیگ کے دورمیں جوترقی ہوئی وہ 65 سال میں نہیں ہوئی، یہ آپ کے ووٹ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے نظرنہیں آتا کہ لوگ دھرنے دینے والوں کو ووٹ دیں گے، 25 جولائی کو الیکشن ہو گا عوام کوجولائی میں خیال رکھنا ہے۔۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ نومبرتک موٹروے مکمل ہوجائے گا،وہ وقت دور نہیں جب آپ خنجراب تک موٹروے کا سفرکریں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ حکومت مدت پوری کرے، ہمارا 5سال کا کام ختم ہوگیا، اب 25 جولائی کو آپ نے فیصلہ کرنا ہے، عوام موجودہ سیاست کو دیکھ کر فیصلہ کریں۔۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ نون لیگ کے دورمیں ترقی ہوتی ہے، باقی لوگوں کے دور میں صرف باتیں ہوتی ہیں، عوام نے درست انتخاب کیا اس لیے ترقی ہو رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امید ہے کہ آپ سیاست کو دیکھ بھال کر بہتر فیصلہ کریں گے،عوام جو فیصلہ کریں گے وہی قابل قبول ہو گا۔

دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا، اجلاس میں اسد درانی کی متنازع کتاب کا معاملہ بھی زیرغورآنے کا امکان ہے-تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج منگل کے روز طلب کر لیا ہے، اجلاس میں ملکی سلامتی، سرحدی سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا‘ذرائع کے مطابق اس اہم اجلاس میں اسد درانی کی متنازع کتاب کامعاملہ بھی زیرغور آئے گا-ساتھ ہی اجلاس میں مشرقی، مغربی سرحد اور خطے کی صورت حال پر غور ہوگا، نیز فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کے بعدعمل د رآمد امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا‘یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے حکم پر سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کو ان کی کتاب کے سلسلے میں جی ایچ کیو طلب کیا گیا تھا۔

پاک فوج کی جانب سے اسد درانی کے خلاف لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں تحقیقات کروانے اور ان کا نام ای سی ایل میںڈالنے کا فیصلہ کیا گیا- لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی اگست 1990 سے مارچ 1992 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے ہیں-