وفاقی حکومت ملک میں آبی وسائل اور فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کے شعبوں پر بھر پور توجہ دے رہی ہے ،

پائیدار ترقیاتی اہداف کے پروگرام اور سماجی شعبے کی بہتری کے لے دن رات کام جاری ہے، ڈپٹی چیئر مین پلاننگ کمیشن

منگل مئی 12:45

وفاقی حکومت ملک میں آبی وسائل اور فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کے شعبوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) ڈپٹی چیئر مین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ملک میں آبی وسائل اور فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کے شعبوں پر بھر پور توجہ دے رہی ہے جس سے عوام کا معیارزندگی بلند کرنے میں معاون ثابت ہو گی، پائیدار ترقیاتی اہداف کے پروگرام اور سماجی شعبے کی بہتری کے لے حکومت دن رات کام کررہی ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں آبی وسائل کے 4 منصوبے پیش کیے گئے جس میں ناری دریا کے بابر کچھ کا تفصیلی ڈئزائن اور فزیبیلٹی رپورٹ کے لیی7 کروڑ 50لاکھ 72 ہزار روپے، سائوتھ وزیرستان ایجنسی میں چاو تنگی سمال ڈیم کے لیے 99 کروڑ40 لاکھ روپے کا منصوبہ، بلوچستان میں آبی وسائل کی ڈویلپمنٹ کے لیے 15 ارب 52 کروڑ 60 لاکھ روپے اور بلوچستان کے ضلع قلع سیف للہ کے بتو زئی سٹوریج ڈیم منصوبے کی تعمیر کے لیے 4 ارب 90کرور 56 لاکھ 67 ہزار ملین روپے کے منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا۔

(جاری ہے)

اسی طرح اجلا س میں کل 4 منصوبے فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ مری پور روڈ کراچی میں واقع پاکستان میرین اکیڈمی کے آڈیٹوریم ہال کی تعمیر کے منصوبے کے لیے 17 کروڑ 72 لاکھ 4 ہزار روپے لاگت ، پاکستان میرین اکیڈمی مری پور روڈ پر واقع صدارتی فلیٹس کیٹ 4 اور 5 وسیع کرنے کے لیے 19کروڑ 3 لاکھ 45 ہزار روپے، نیکٹا ہیڈ کوآرٹر اسلام آباد جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائیرکٹریٹ کی تعمیر کے لیے 40 کروڑ روپے اور خیبر پختونخواہ انٹر میڈیٹ سٹی کی ترقی اور سرمایہ کے لیے ریڈیننس فنانسنگ منصوبے کے لیے ایک ارب 32 کروڑ روپے کی لاگت پیش کی گئی ان چاروں منصوبوں کو اجلاس نے منظور کر لیا ۔